ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ -يَعْنِي مُحْتَلِمًا- دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ المَعَافِرِ، ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ.
ترجمہ
معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جب انھیں یمن روانہ فرمایا تو حکم دیا کہ وہ گایوں میں سے ہر تیس گائے پر ایک سال کا ايك بچھڑا یا ایک سال کی ايک بچھیا اور ہر چالیس گائے پر دو سال کی ایک بچھیا وصول کریں، اور ہر بالغ کی جانب سے -یعنی محتلم سے- ایک دینار یا اس کی قیمت کے برابر معافری کپڑا لیں، جو یمن میں تیار ہونے والے کپڑے ہیں۔
تشریح
نبی ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو تعلیم اور دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، آپ ﷺ نے انہیں جو احکامات دیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ وہ مسلمانوں سے ان کی گایوں کی زکاۃ وصول کریں؛ ہر تیس گائے میں سے ایک سال کا ایک بچھڑا یا ایک سال کی ایک بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے میں سے دو سال کی ایک بچھیا لیں۔ اہل کتاب یہود ونصاریٰ کے ہر بالغ مرد سے ایک دینار جزیہ لیں، یا اس کے مساوی معافری نامی یمنی کپڑے۔
فوائد
- جزیہ صرف اس شخص سے لیا جاتا ہے جو حدِ بلوغت کو پہنچ چکا ہو؛ کیونکہ جس سے جزیہ نہیں لیا جاتا اس کا ضابطہ یہ ہے کہ وہ ایسا شخص ہو جسے قیدی بنا لیے جانے کی صورت میں قتل کرنا جائز نہیں ہے، جیسے چھوٹا بچہ، عورت اور ان جیسے دیگر لوگ۔
- جزیہ کی تعیین کا معاملہ حاکم وقت کے اجتہاد پر موقوف ہے، کیونکہ وہ زمان ومکان اور امیری وغریبی کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خود اللہ کے رسول ﷺ نے اہل یمن کا جزیہ متعین کرتے ہوئے معاذ سے کہا: ”ہر بالغ شخص سے ایک دینار لو“، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ نے اہل شام پر جزیہ نافذ کیا، تو کچھ بڑھا کر لاگو کیا۔
- زکوۃ کی وصولی کا اہتمام کرنا اور اس کے لیے کسی کو ذمہ داری تفویض کرنا، حاکمِ وقت کے فرائض میں سے ہے۔
- تبیع: گائے کا وہ بچہ جس نے ایک سال مکمل کر لیا ہو اور دوسرے سال میں داخل ہو گیا ہو، اسے تبیع اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ اب بھی اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے۔
- دینار: سونے کا سکہ، اسلامی دینار کا وزن سوا چار (4.25) گرام سونے کے برابر ہے۔
تشریح: العربية
بَعثَ النبي صلى الله عليه وسلم معاذَ بن جبل رضي الله عنه إلى اليمن لتعليم الناس ودعوتهم، ومما أمره به أن يأخذ من المسلمين زكاة بقرهم من كل ثلاثين بقرة يأخذ ثورًا تبيعًا أو بقرة تبيعة؛ وهو ما تم له سنة، ومن كل أربعين بقرة يأخذ بقرة مسنة؛ وهي ما تم لها سنتان. وأن يأخذ الجزية من أهل الكتاب اليهود والنصارى عن كل ذكر بالغ دينارًا، أو ما يساوي دينارًا من ثياب اليمن المسمى: معافري.
- الجزية لا تؤخذ إلَّا ممَّن قد بلغ الحلم؛ لأنَّ ضابط الذي لا تؤخذ منه: هو الذي لا يجوز قتله إذا أُسر: من صغيرٍ، وامرأة، وغيرهما.
- الجزية يرجع في تقديرها إلى اجتهاد الإمام، فإنَّها تختلف حسب اختلاف المكان والزمان، والغنى والفقر، والدليل على ذلك أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم هو الذي قدَّرها على أهل اليمن، فقال لمعاذ: "خذ من كل حالِمٍ دينارًا"، بينما زادت الجزية في تقدير عُمر رضي الله عنه حينما قدَّرها على أهل الشام.
- الاهتمام بجمع الزكاة، وتوكيل من يجمعها من مهام ولي الأمر.
- التبيع: ما أتمّ سنة، ودخل في الثانية، وسمي تبيعًا؛ لأنه ما زال يتبع أمه.
- الدينار: نقد ذهبي، والدينار الإِسلاميّ: زنته أربعة غرامات وربع من الذهب (4.25 جم).