حدیث

جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے اور اگر اجتہاد کرے پھر حکم دے لیکن اجتہاد میں غلطی کر جائے تو بھی اسے ایک اجر ملے گا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عمرو بن العاص رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِذَا حَكَمَ الحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثم أَصابَ فله أَجْرَان، وإِذا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثم أَخْطَأَ فله أَجْرٌ».

ترجمہ

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب حاکم کوئی حکم دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد سے کام لے، پھر صحیح حکم دینے میں کامیاب ہو جائے، تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اور اگر حکم دینے کا ارادہ کرے اور صحیح حکم دینے کی پوری کوشش کرے، پھر ناکام ہو جائے تو اس کے لیے اکھرا اجر ہے"۔

تشریح

یہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ کوئی حاکم جب کسی مسئلے پر اجتہاد کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے اور سمجھے کہ اس مسئلے میں یہی حق ہے، پھر فیصلہ دے دے، تو اب اگر اس کا فیصلہ صحیح، حق کے موافق ہوا اور اللہ کی منشا کے مطابق ہوا، تو اسے دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجتہاد کرنے کا اجر اور دوسرا حق کے موافق فیصلہ کرنے کا اجر۔ لیکن اگر اجتہاد تو کرے، لیکن صحیح فیصلے تک پہنچ نہ سکے، تو اسے ایک ہی اجر ملے گا۔ یعنی صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے اجتہاد کا اجر، کیوں کہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہادکرنا عبادت ہے۔ ہاں، اسے صحیح فیصلہ دینے کا ثواب نہیں ملے گا اور ساتھ ہی اجتہاد کے بعد صحیح فیصلہ نہ دے پانے کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ جانکار ہو اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو۔

تشریح: العربية

يبين الحديث أن الحاكم إذا بذل جهده في القضية، واجتهد فيها حتَّى وصل باجتهاده إلى ما يعتقد أنَّه الحق في القضية، ثم حكم فإنْ كان حكمه صواباً موافقاً للحقِّ، وهو مراد الله تعالى في أحكامه، فله أجران: أجر الاجتهاد، وأجر إصابة الحق. وإنْ اجتهد؛ ولكنَّه لم يصل إلى الصواب، فله أجرٌ واحد، هو أجر الاجتهاد؛ لأنَّ اجتهاده في طلب الحقِّ عبادة، وفاته أجر الإصابة، ولا يأثم بعدم إصابة الحق بعد بذله جهده واجتهاده، بشرط أنْ يكون عالماً مؤهَّلاً للاجتهاد.

  • أن الحاكم إذا بذل جهده في القضية ثم حكم، فإنْ كان حكمه صواباً موافقاً للحقِّ، فله أجران: أجر الاجتهاد، وأجر إصابة الحق, وإنْ اجتهد؛ ولكنَّه لم يصل إلى الصواب، فله أجرٌ واحد، هو أجر الاجتهاد.
  • مفهوم الحديث: أنَّ القاضي إذا لم يجتهد، بل حكم بدون إمعان ولا تحرٍّ للصواب: أنَّه آثمٌ؛ لأَنَّه حكم بين النَّاس وهو لا يعرف الحق؛ فهذا في النَّار.
  • الحديث يدل على أهمية القضاء, وأنه لا يحصل إلا بالاجتهاد, والاجتهاد لا يكون إلا بالعلم الشرعي, فلا بد أن يكون القاضي عالما بالأحكام الشرعية من أدلتها التفصيلية.
  • جواز الاجتهاد في الأحكام الشرعية.
  • أنه ليس كل مجتهد مصيبًا, وأن المصيب واحد لا يتعدد.
  • فضل الحاكم الذي على هذا الوصف, وأنه يغنم الأجر في كل قضية يحكم فيها, ولهذا كان القضاء من أعظم فروض الكفايات.
  • أن كل من تصرف بطريق شرعي مجتهدًا فيه فلا ضمان عليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید