حدیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه الترمذي وأحمد

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ.

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو رشوت دیتے اور لیتے ہوں۔ اس کے اندر وہ چیزیں بھی شامل ہیں، جو قاضیوں کو ان فیصلوں کے بارے میں دی جاتی ہیں، جو ان کو کرنا ہوتا ہے اور جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دینے والا غلط طریقے سے اپنے حق میں فیصلہ دلوا لے۔

فوائد

  • رشوت دینا، لینا، اور رشوتا مي، واسطہ بننا اور اس میں کسی بھی طرح کی مدد کرنا حرام ہے، کیوں کہ یہ غلط کام میں مدد کرنا ہے۔
  • رشوت میں ملوث ہونا کبیرہ گناہ ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔
  • قضا اور فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینا اور لینا زیادہ بڑا جرم اور سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ ظلم اور اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کو درکنار کرکے من مانی انداز میں فیصلہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
تشریح: العربية

دعا النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالطرد والإبعاد من رحمة الله عز وجل لدافع الرشوة وآخذها وقابضها. ومن ذلك ما يُدفع للقُضاة ليَحِيْفُوا في الحُكْم الذي يَتَولونه؛ ليتوصل به المُعطي إلى مراده بغير حق.

  • يَحْرُمُ بذل الرشوة، وأخذُهَا، والتوسُّطُ فيها، والإعانةُ عليها؛ لما فيها من التعاون على الباطل.
  • الرشوة من كبائر الذنوب؛ لأنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن آخذَها ومعطيَها.
  • الرشوة في باب القضاء والحُكْم أعظم جُرْمًا، وأشد إثمًا؛ لما فيها من الظلم والحكم بغير ما أنزل الله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید