ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن زيد بن خالد الجهني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أُخبِرُكُم بخير الشُّهَدَاء الذي يَأتي بِشَهادَتِهِ قبل أن يُسْأَلَهَا».
ترجمہ
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "کیا میں تمھیں نہ بتا دوں کہ سب سے اچھا گواہ کون ہے؟ وہ جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے"۔
تشریح
اس حدیث میں سب سے اچھا گواہ اسے کہا گيا ہے، جو گواہی طلب کرنے سے پہلے گواہی دے۔ یہ دحدیث دراصل اس کے ایک بہترین انسان ہونے اور حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے اقدام کے استحسان کی دلیل ہے۔ لیکن یہ حدیث اس حالت پر محمول ہوگی، جب صاحب حق اس گواہی سے واقف نہ ہو یا بھول گیا ہو۔ ایسی صورت میں گواہ کے لیے گواہی درج کرانے کے لیے آگے بڑھنا مشروع ہے۔ گرچہ اس سے گواہی طلب نہ کی گئی ہو۔ دراصل یہ سب سے بہتر صورت ہے اس حدیث کے اور ان حدیثوں کے بیچ تطبیق کی، جن کے اندر بن بلائے گواہی دینے کی مذمت کی گئی ہے۔
تشریح: العربية
أفاد الحديث أفضلية من يأتي بالشهادة قبل أن تطلب منه، وهذا دليل على خيريته ومبادرته إلى أداء الشهادة حفظا للحقوق، والحديث محمول على ما إذا كان صاحب الحق لا يعلم بهذه الشهادة أو نسيها، فإنه يشرع للشاهد أن يبادر بها وإن لم تطلب منه، وهذا هو أحسن الوجوه في الجمع بين هذا الحديث، وبين الأحاديث التي فيها ذم من يشهد قبل أن يستشهد.
- فضل من يأتي بالشهادة قبل أن تطلب منه، وهو محمول على ما إذا كان صاحب الحق لا يعلم بهذه الشهادة أو نسيها، فإنه يشرع للشاهد أن يبادر بها وإن لم تطلب منه، حفظًا لحق أخيه من الضياع.
- تفاضل الشهداء، وأن منهم الخيِّر ومنهم دون ذلك.