ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي سعيد الخُدْريِّ رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں حسب استطاعت منکر کو بدلنے کا حکم دے رہے ہیں- منکر سے مراد ہر وہ عمل ہے، جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے- جو شخص کوئی منکر (غلط کام) دیکھے، تو اس پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اگر اس کے پاس طاقت ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کے پاس اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اس پر نکیر کرے۔ یعنی غلط کام کرنے والے کو اسے کرنے سے منع کرے، اسے اس کا نقصان بتائے اور اس کی رہنمائی اس برے کام کی جگہ پر کسی اچھے کام کی جانب کرے۔ اگر اس سے بھی عاجز ہو، تو اس کے دل میں اس غلط کام کے خلاف رد عمل ہونا چاہیے۔ یعنی اس غلط کام کو برا جانے اور یہ عزم کرے کہ اگر اس کے پاس اس سے روکنے کی طاقت آ جائے تو ضرور روکے گا۔ دل کے اندر پیدا ہونے والا یہ رد عمل ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔
فوائد
- یہ حدیث منکر کو تبدیل کرنے کے مراتب بیان کرنے کے سلسلے میں بنیاد اور مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
- منکر سے روکنے کےسلسلے میں درجہ بندی کو ملحوظ خاطر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر انسان اپنی استطاعت وقدرت کے حساب سے اس کام کو انجام دے۔
- منکر سے روکنا ایک بہت بڑی دینی ذمے داری ہے، جو کسى سے بھى ساقط نہیں ہوتی ہے۔ ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق اس ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔
- بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایمان کی ایک خصلت ہے اور ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے۔
- منکر سے روکنے کے لیے شرط ہے کہ اس عمل کے منکر ہونے کا علم ہو۔
- منکر کو بدلنے کے لیے شرط ہے کہ اس کے نتیجے میں اس سے بڑا کوئی منکر وجود میں نہ آئے۔
- منکر سے روکنے کے کچھ آداب اور شروط ہیں جن سے مسلمان کو آگاہ اور واقف ہونا چاہیے۔
- منکر کی نکیر کرنے کے لیے شریعت کے اسرار ورموز سے واقفیت اور علم وبصیرت ضروری ہے۔
- دل سے منکر کی نکیر نہ کرنا ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔
تشریح: العربية
يأمر النبي صلى الله عليه وسلم بتغيير المنكر -وهو كل ما نهى الله عنه ورسوله- حسب الاستطاعة، فإذا رأى منكرًا فيجب عليه تغييره باليد إن كان له قدرة، فإن عجز عن ذلك فليغيره بلسانه بأن ينهى مرتكبه ويُبيِّن له ضرره ويرشده إلى الخير بدل هذا الشر، فإن عجز عن هذه المرتبة فليغيره بقلبه بأن يَكرَه هذا المنكر ويَعزِم أنه لو قدر على تغييره لفعل، والتغيير بالقلب أضعف مراتب الإيمان في تغيير المنكر.
- الحديث أصل في بيان مراتب تغيير المنكر.
- الأمر بالتَّدَرُّج في النهي عن المنكر، كلٌّ بحسب استطاعته وقدراته.
- النهي عن المنكر باب عظيم في الدين ولا يسقط عن أحد، ويُكَلَّف به كل مسلم بحسب استطاعته.
- الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر من خصال الإيمان، والإيمان يزيد وينقص.
- يشترط في النهي عن المنكر: العلم بكون ذلك الفعل منكرًا.
- يشترط في تغيير المنكر: أن لا يترتب عليه منكر أعظم منه.
- للنهي عن المنكر آداب وشروط ينبغي على المسلم أن يتعلمها.
- إنكار المنكر يحتاج إلى سياسة شرعية، وإلى علم وبصيرة.
- عدم الإنكار بالقلب يدل على ضعف الإيمان.