حدیث

جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: «مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ».

ترجمہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانۂ جاہلیت میں کیے ہیں، کیا ان کا بھی مؤاخذہ ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا"۔

تشریح

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے کی فضیلت بیان کر رہے ہیں۔ جو شخص اسلام لائے اور پھر اس کا اسلام ٹھیک رہے اور وہ صدق واخلاص سے متصف رہے، تو ان گناہوں پر اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا، جو اس نے جاہلیت میں کیے تھے۔ اور جو شخص اسلام لانے کے بعد بھى برا ہى رہا، بایں طور کہ دل میں نفاق چھپائے رکھا یا دین سے مرتد ہوگیا، تو اس سے ان تمام اعمال کا حساب و کتاب ہوگا، جو اس نے کفر اور اسلام کی حالت میں کیے۔

فوائد

  • اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ان اعمال کے تئیں بھی فکر مند اور خائف رہتے تھے جو ان سے زمانۂ جاہلیت میں سرزد ہوئے تھے۔
  • اسلام پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب۔
  • اسلام میں داخل ہونے کی فضیلت اور یہ کہ اسلام لانے سے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
  • منافق اور مرتد سے ان تمام اعمال کا حساب لیا جائے گا، جو انہوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کیے تھے اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد کیے۔
تشریح: العربية

يُبَيِّنُ النبي صلى الله عليه وسلم فضل الدخول في الإسلام، وأن من أسلم وحسن إسلامه وكان مخلصًا صادقًا؛ فلا يحاسب بما عمل في الجاهلية من معاصي، ومن أساء في الإسلام بأن كان منافقًا أو ارتد عن دينه؛ حوسب بما عمل في الكفر وبما عمل في الإسلام.

  • اهتمام الصحابة رضوان الله عليهم وخوفهم مما كان منهم من الأعمال في الجاهلية.
  • الحث على الثبات على الإسلام.
  • فضل الدخول في الإسلام وأنه يكفر الأعمال السابقة.
  • المرتد والمنافق يُحاسَبُ بكلِّ عملٍ له سَبَقَ في الجاهلية، وبكل ذنب فَعله في الإسلام.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید