ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي مالكٍ الأشعريِّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ تَمْلَآنِ -أَوْ تَمْلَأُ- مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا».
ترجمہ
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔
فوائد
- طہارت کی دو قسمیں ہیں: ظاہری طہارت جو وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور باطنی طہارت جو توحید و ایمان اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
- پابندی کے ساتھ نماز پڑھنے کی اہمیت، کیوں کہ نماز بندے کے لیے دنیا میں بھی نور ہے اور قیامت کے دن بھی نور رہے گی۔
- صدقہ ایمان کی صداقت کی دلیل ہے۔
- قرآن پر عمل کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کی اہمیت، تاکہ قرآن آپ کے حق میں حجت ہو نا کہ آپ کے خلاف۔
- اگر آپ اپنے نفس کو اطاعت میں مشغول نہیں رکھیں گے تو وہ آپ کو گناہ میں مشغول کر دے گا۔
- ہر انسان لا محالہ کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے۔ یا تو وہ اطاعت کے ذریعہ اپنے نفس کو آزاد کر لیتا ہے یا گناہ کے ذریعہ اسے ہلاک کر لیتا ہے۔
- صبر کے لیے تحمل اور احتساب اجر ضروری ہے، جو کہ مشقت آمیز امر ہے۔
تشریح: العربية
يخبر النبي صلى الله عليه وسلم: أن طهارة الظاهر تكون بالوضوء والغسل وهي شرط في الصلاة. وأن قول: " الحمد لله تملا الميزان" وهو الثناء عليه سبحانه، ووصفه بصفات الكمال توزن يوم القيامة فتملأ ميزان الأعمال. وأن قول: "سبحان الله والحمد لله" وهو تنزيهه عن كل نَقْصٍ ووصفه بالكمال التام الذي يليق بجلاله مع محبته وتعظيمه تملأ ما بين السموات والأرض. وأن "الصلاة نور" للعبد في قلبه، وفي وجهه، وفي قبره، وفي حشره. وأن "الصدقة برهان" ودليل على صدق إيمان المؤمن، واختلافه عن المنافق الذي يمتنع منها لكونه لا يصدق بموعودها. وأن "الصبر ضياء" -وهو حبس النفس عن الجَزَع والتَّسَخُّط - نور يحصل معه حرارة وإحراق، كضياء الشمس؛ لأنه شاق ويحتاج إلى مجاهدة النفس وحبسها عما تهواه؛ فلا يزال صاحبه مستضيئًا مهتديًا مستمرًّا على الصواب. وهو صبر على طاعة الله، وعن معصيته، وصبر على المصائب وأنواع المكاره في الدنيا. وأن "القرآن حجة لك" بتلاوته والعمل به، أو "حجة عليك" بتركه دون عمل أو تلاوة. ثم أخبر صلى الله عليه وسلم أن كل الناس يسعون وينتشرون ويقومون من نومهم ويخرجون من بيوتهم لأعمالهم المختلفة، فمنهم من يستقيم على طاعة الله فيُعْتِق نفسَه من النار، ومنهم من ينحرف عن ذلك ويقع في المعاصي فيهلكها بدخولها النار.
- الطهارة طهارتان: طهارة الظاهر تكون بالوضوء والغسل، وطهارة الباطن تكون بالتوحيد والإيمان والعمل الصالح.
- أهمية المحافظة على الصلاة فهي نور للعبد في الدنيا ويوم القيامة.
- الصدقة دليل على صدق الإيمان.
- أهمية العمل بالقرآن وتصديقه ليكون حجة لك لا عليك.
- النفس إن لم تشغلها بالطاعة شغلتك بالمعصية.
- كل إنسان لا بد أن يعمل؛ فإما أن يعتق نفسه بالطاعة، أو يوبقها بالمعصية.
- الصبر يحتاج إلى تَحَمُّلٍ واحتسابٍ وفيه مشقة.