ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ؟ قَالَ: «لَا يَنْفَعُهُ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ».
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان زمانۂ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ عمل اسے فائدہ پہنچائے گا؟ آپ نے فرمایا: "یہ عمل اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جدعان کے بارے میں، جو کہ اسلام سے قبل قریش کا ایک سردار تھا خبر دیا- اور اس نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے کئی اچھے کام کیے تھے، جن کی ترغیب اسلام نے دی ہے، بتایا کہ یہ اعمال آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا تھا اور اس نے کبھی یہ دعا نہیں کی تھی کہ اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دینا۔
فوائد
- ایمان کی فضیلت کا بیان اور یہ وضاحت کہ ایمان اعمال کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔
- کفر کی سیہ بختی کا بیان اور یہ وضاحت کہ کفر نیکوں کو غارت کردیتا ہے۔
- کافروں کو ان کے اعمال آخرت میں کچھ کام نہ دیں گے، کیوں کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔
- کفر کی حالت میں انسان جو نیک اعمال کرتا ہے، اسلام لانے کے بعد ان اعمال کا اجر و ثواب (اس کے نامۂ اعمال میں) لکھ دیا جاتا ہے اور اسے ان کا اجر و ثواب ملتا ہے۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم عن عبد الله بن جدعان، وكان من رؤساء قريش قبل الإسلام، ومن أفعاله الحسنة أنه: يصل أقاربه ويحسن إليهم، ويطعم المسكين، وغيرها من الفضائل التي حث الإسلام على فعلها، بأن هذه الأعمال لن تنفعه في آخرته؛ وذلك بسبب كفره بالله، وأنه لم يقل يومًا: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين.
- بيان فضل الإيمان، وأنه شرط لقبول الأعمال.
- بيان شؤم الكفر، وأنه من مُحبطات الأعمال الصالحات.
- الكفار لا تنفعهم أعمالهم في الآخرة لعدم إيمانهم بالله واليوم الآخر.
- أعمال الإنسان في حال كفره تكتب له إذا أسلم، ويُجازى عليها.