ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: «وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے نبی ﷺ کے چند صحابہ حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہی صریح ایمان ہے۔‘‘
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے دلوں میں جو ناگوار باتیں پاتے تھے، جن کی قباحت اور شناعت کے سبب انہیں زبان پرلانا بہت سنگین سمجھتے تھے، ان کے بارے میں آپ سے دریافت کیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : یہ احساس جو تم اپنے دلوں میں پاتے ہو، وہی صریح ایمان و یقین ہے، جو تمہیں شیطانی وسوسے سے اپنی حفاظت کرنے اور اسے زبان پر نہ لانے اور اسے سنگین سمجھنے پر آمادہ کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے شیطان تمہارے دل پر حاوی نہیں ہو پاتا ہے، برخلاف اس شخص کے جس کے دل پر شیطان حاوی ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دل کے اندر شیطان سے لڑنے کے طاقت نہيں پاتا۔
فوائد
- اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ وہ یہاں وسوسہ سے آگے بڑھ نہیں پاپا۔
- دل میں جو وسوسے آتے ہیں، ان کو سچ جان کر قبول نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ شیطان کی جانب سے ہوتے ہیں۔
- شیطانی وسوسہ مؤمن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، لیکن پھر بھی مؤمن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسے سے اللہ کی پناہ طلب کرتا رہے اور وسوسے کی رو میں نہ بہے۔
- مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اسے دینی امور میں جو مشکلات در پیش ہوں، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ ان کے بارے میں اہل علم سے پوچھ لیا کرے۔
تشریح: العربية
جاء جماعة مِن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه عن ما يجدونه في أنفسهم من الأمور الكبيرة التي يعظم عليهم النطق بها لقبحها ونفورهم عنها، فقال عليه الصلاة والسلام: إن هذا الذي وجدتموه هو صريح الإيمان واليقين الذي يدفعكم لمنع ما يلقيه الشيطان في القلب واستنكاركم النطق وتعاظم ذلك في أنفسكم، وإن الشيطان لم يتمكن من قلوبكم، بخلاف من تمكَّن الشيطان من قلبه ولم يجد معه مدافعة.
- بيان ضعف الشيطان مع أهل الإيمان حيث لم يقدر إلا على الوسوسة.
- عدم التصديق والقبول بما يراود النَّفس مِن وساوس، فإنها مِن الشيطان.
- وسوسة الشيطان لا تضر المؤمن، ولكن ليستعذ بالله من وسوسته، ولينته عن الاسترسال في ذلك.
- لا ينبغي للمسلم السكوت عما يُشْكِل عليه في أمر دينه، وينبغي له السؤال عنه.