ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ مَنْ خَلَقَ كَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَهُ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ وَلْيَنْتَهِ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔
تشریح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان سوالات کا کارگر علاج بیان فرمایا ہے جن کے ذریعہ شیطان مؤمن کو وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے۔ شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ آسمان کس نے بنایا؟ زمین کس نے تخلیق کی؟ ایسے میں مؤمن اپنے دین، فطرت اور عقل کی روشنی میں ان وسوسوں کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ لیکن شیطان انہی وسوسوں پر بس نہیں کرتا، بلکہ ایک کے بعد دوسرا سوال لاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سوال تک پہنچ جاتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ ایسی صورت میں مؤمن کو چاہیے کہ ان وسوسوں کا مقابلہ تین چیزوں کے ذریعے کرے : اللہ پر ایمان کے ذریعے، شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرکے اور وسوسوں کے پیچھے بھاگنے سے اپنے آپ کو روک کر۔
فوائد
- شیطانی وسوسوں سے اعراض کرنا چاہیے اور ان میں غور وفکر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرکے ان وسوسوں کو دور کرنا چاہیے۔
- شریعت کے خلاف جو بھی وسوسے انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں، وہ شیطانی کی طرف سے ہوتے ہیں۔
- اللہ کی ذات میں غور وفکر کرنے کی ممانعت آئی ہے اور اللہ کی مخلوقات اور اس کی نشانیوں میں غور وفکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
تشریح: العربية
يخبر رسول الله صلى الله عليه عن العلاج الناجع للتساؤلات التي يوسوس بها الشيطان على المؤمن، فيقول الشيطان: من خلق كذا؟ من خلق كذا؟ من خلق السماء؟ ومن خلق الأرض؟ فيجيبه المؤمن دِينًا وفطرة وعقلًا بقوله: الله، ولكن الشيطان لا يقف عند هذا الحد من الوساوس، بل ينتقل حتى يقول: من خلق ربك؟ فعند ذلك يدفع المؤمن هذه الوسواس بأمور ثلاثة: بالإيمان بالله. والتعوذ بالله من الشيطان. والتوقف عن الاسترسال مع الوساوس.
- الإعراض عن وسواس الشيطان وخطراته وعدم التفكير فيها، والالتجاء إلى الله تعالى في إذهابها.
- كل ما يقع في قلب الإنسان من الوساوس المخالفة للشرع فهي من الشيطان.
- النهي عن التفكر في ذات الله، والحث على التفكر في مخلوقاته وآياته.