حدیث

تم ان نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ، وَصِلَةِ رَحِمٍ، فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ».

ترجمہ

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کےرسول ﷺ ! میں زمانۂ جاہلیت میں عبادت کی نیت سے جو صدقہ دیتا تھا یا غلام آزاد کرتا اور صلہ رحمی کرتا تھا، کیا ان کا مجھے کوئی اجر ملے گا؟نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تم ان نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ کافر جب اسلام لاتا ہے، تو اسلام لانے سے قبل زمانۂ جاہلیت میں جو نیک اعمال اس نے کیے تھے، ان کا بھی اجر وثواب اسے ملتا ہے۔ جیسے صدقہ و خیرات کرنا، غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔

فوائد

  • دنیا میں کافر جو نیکیاں کرتا ہے، اگر کفر کی حالت میں اس کی وفات ہوجائے، تو آخرت میں ان نیکیوں کا کوئی ثواب اسے نہیں ملے گا۔
تشریح: العربية

يُبَيِّن النبي صلى الله عليه وسلم أن الكافر إذا أسلم فإنه يثاب على ما كان يعمل في الجاهلية قبل إسلامه من الأعمال الصالحة من صدقة أو عتاقة عبيد أو صلة رحم.

  • أن حسنات الكافر في الدنيا لا يثاب عليها في الآخرة إذا مات على كفره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید