حدیث

علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه ابن ماجه

عربی متن

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَالنَّارُ النَّارُ».

ترجمہ

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لیے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو (اس کے لیے) آگ ہے، آگ ہے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس بات سے منع کیا ہے کہ حصول علم کے پیچھے علما کے مقابلے میں فخر و مباہات کرنے اور یہ باور کرانے کا مقصد کارفرما ہو کہ میں بھی تمہاری طرح عالم ہوں، نادانوں اور کم عقلوں سے بحث و مباحثہ کرنے یا مجلسوں میں سرداری اور صدارت حاصل کرنے جیسے ارادے چھپے ہوئے ہوں۔ جس نے ایسا کیا وہ ریا ونمود اور حصول علم میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہے۔

فوائد

  • جو شخص فخر ومباہات، بحث ومباحثہ یا مجلسوں کی صدارت حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے، اسے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
  • جو شخص علم سیکھے اور سکھائے، اس کی نیت میں اخلاص کا پایا جانا بہت اہم اور ضروری ہے۔
  • نیت ہی تمام اعمال کی بنیاد ہے اور اسی کے مطابق بدلہ ملے گا۔
تشریح: العربية

حذَّّر النبي صلى الله عليه وسلم من طلب العلم لمفاخرة ومباهاة العلماء، وإظهار أني عالم مثلكم، أو لتخاطبوا وتجادلوا به السفهاء وخِفاف العقول، أو يتعلم لأن يتصدَّر في المجالس، ويُقدَّم على غيره فيها. فمن فعل ذلك؛ فإنه يستحقّ النار بريائه وعدم الإخلاص في طلب العلم لله.

  • الوعيد بالنار لمن تعلَّم العلم ليفاخر به أو يجادل به أو يتصدَّر به المجالس، ونحو ذلك.
  • أهمية إخلاص النية لمن تعلَّم العلم وعلَّمه.
  • النية أساس الأعمال وعليها يكون الجزاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید