حدیث

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: «قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ. فَأَنْزَلَ اللهُ: {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ } [القصص: 56].

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے (جواب میں) کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے، کہیں گے کہ اسے (موت کی) گھبراہٹ نےاس بات پر آمادہ کیا ہے، تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "آپ جسے چاہتے ہوں اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے۔" [القصص: 56].

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھے، یہ مطالبہ کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تاکہ آپ اس کی بدولت قیامت کے دن ان کے حق میں سفارش کر سکیں اور ان کے اسلام لانے کی گواہی دے سکیں، لیکن انہوں نے اس خوف سے کلمۂ شہادت پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش کے لوگ انہیں سب وشتم کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے موت کے خوف سے کمزور پڑ کر اسلام قبول کر لیا! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ایسی بات نہ ہوتی، تو وہ کلمۂ شہادت پڑھ کر آپ کے دل کو خوش کر دیتے اور آپ کی آرزو پوری کردیتے۔ اسی موقع پر اللہ نے وہ آیت نازل فرمائی، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر قادر نہیں کہ اسلام قبول کرنے کی ہدایت دے سکیں، بلکہ صرف اللہ عز وجل ہی جسے چاہتا ہے اس کی توفیق دیتا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی رہنمائی کرتے، ان کے سامنے حق بیان کرتے اور انہیں راہ مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔

فوائد

  • لوگوں کے تبصرے کے خوف سے حق کو چھوڑنا درست نہیں۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس بات پر قادر تھے کہ لوگوں کی رہنمائی کر سکیں، ہدایت قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ کا کام ہے۔
  • اسلام کی دعوت دینے کے لیے کافر کی زیارت کرنا مشروع ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے کا خوب سے خوب اہتمام کرتے تھے۔
تشریح: العربية

طَلَبَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن عمِّه أبي طالب وهو في سكرات الموت أن ينطق بلا إله إلا الله ليشْفَع له بها يوم القيامة، ويشهد له بالإسلام، فأبى أن ينطق بالشَّهادة خوفًا مِن أن تَسُبَّه قريش وتقول عنه: إنَّه أسلَم بسبب الخوف مِن الموت والضَّعْف! فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: لولا ذلك لَأدخلت السّرور على قلبك بقول الشَّهادة، وأبلغتك أُمنيتك حتى ترضى! فأنزل الله تعالى الآية التي تدل على أن النبي صلى الله عليه وسلم لا يملك هداية التوفيق للإسلام، بل الله عز وجل وحده يُوفِّق من يشاء. وأن النبي عليه الصلاة والسلام يهدي الخلق بالدلالة والبيان والإرشاد والدعوة إلى الصراط المستقيم.

  • الحق لا يُترك خوفًا من كلام الناس.
  • النبي صلى الله عليه وسلم إنما يملك هداية الدلالة والإرشاد لا هداية التوفيق.
  • مشروعية زيارة الكافر المريض لدعوته إلى الإسلام.
  • حرص النبي صلى الله عليه وسلم على الدعوة إلى الله تعالى في كل الأحوال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید