ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْوَأُ النَّاسِ سَرَقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ» قَالَ: وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قال: «لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا، وَلَا سُجُودَهَا».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔ ایسا اس لیے کہ دوسرے کا مال چرانے سے ہو سکتا ہے کہ انسان کو دنیوی فائدہ ہو جائے، لیکن نماز میں چوری کرنے والا خود اپنے حق کی نیکی اور ثواب چراتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! نماز میں چـوری کرنے کا مطلب کیا ہے، تو آپ نے جواب دیا : اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مکمل طور پر رکوع اور سجدہ نہ کرے۔ یعنی جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کر لے اور مکمل طور پر ان کو ادا نہ کرے۔
فوائد
- اچھی طرح نماز پڑھنے اور اس کے ارکان کو اطمینان و خشوع کے ساتھ ادا کرنے کی اہمیت۔
- رکوع اور سجدہ مکمل طور پر نہ کرنے والے کو چور کہنا، اس عمل سے نفرت دلانے اور اس کے حرام ہونے پر متنبہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
- نماز میں رکوع اور سجدہ مکمل طور پر اور سکون کے ساتھ کرنا واجب ہے۔
تشریح: العربية
بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ أشدَّ الناسِ قُبْحًا في السَّرِقَة الذي يَسْرِقُ مِن صلاتِه؛ وذلك لأنَّ أَخْذَ مالِ الغيرِ ربما ينتفع به في الدنيا، بخلاف هذا السارق، فإنه سَرَقَ حقَّ نفسِه مِن الثواب والأجر، قالوا: يا رسول الله، وكيف يسرق من صلاته؟ قال: لا يتم ركوعها ولا سجودها؛ وذلك بأنْ يستعجل في الركوع والسجود، فلا يأتي بهما على الوجه الأكمل.
- أهمية إحسان الصلاة والإتيان بأركانها بطمأنينة وخشوع.
- وصف مَن لا يتم ركوعه وسجوده بأنه سارقٌ تنفيرٌ عن ذلك، وتنبيهٌ على تحريمِه.
- وجوب إتمام الركوع والسجود في الصلاة والاعتدال منهما.