ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا».
ترجمہ
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کرلیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سچا مومن اور ایمان کو حرز جاں سمجھنے والا شخص اپنے دل میں بڑی کشادگی، وسعت، خوشی، حلاوت اور اللہ سے قریب ہونے کی لذت محسوس کرے گا؛ اگر وہ تین باتوں پر راضى ہو: 1- اللہ کو اپنا رب تسلیم کر کے مطمئن ہو۔ یعنی اپنے رب کی عطا کی ہوئی تمام چیزوں، جیسے روزی اور زندگی کے نشیب و فراز کو پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے، اس تعلق سے دل میں کوئی کبیدگی اور اعتراض نہ پائے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کو رب بنانے کی کوشش نہ کرے۔ 2- اسلام کو اپنا دین تسلیم کر کے مطمئن ہو اور اسلام کی عائد کردہ ذمے داریوں اور واجبات کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرے اور اسلام کے راستے کو چھوڑ کوئی اور راستہ نہ ڈھونڈے۔ 3- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول مان کر مطمئن ہو۔ آپ کی لائی ہوئی تمام تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھے۔ شک و شبہ کو دل میں راہ پانے کا موقع نہ دے اور آپ کے طریقے کو حرز جاں سمجھے۔
فوائد
- جس طرح کھانے پینے کی چیزوں کی حلاوت اور لذت ہوا کرتی ہے، اسی طرح ایمان کی بھی حلاوت اور لذت ہوا کرتی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی حلاوت اور مزہ منہ سے محسوس کرتے ہيں اور ایمان کی حلاوت اور مزہ دل سے۔
- جس طرح جسم کھانے پینے کی جیزوں کی حلاوت تندرستی کی حالت میں ہی محسوس کرتا ہے، اسی طرح دل بھی گمراہ کن خواہشات اور حرام شہوتوں سے محفوظ ہونے کی صورت میں ہی ایمان کی حلاوت محسوس کرتا ہے۔ بیمار دل ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ کبھی کبھی تو اسے ہلاکت خیز خواہشات اور گناہ کے کاموں ہی میں مزہ آنے لگتا ہے۔
- جب انسان کسی چيز سے مطمئن ہو اور اسے بہتر جانے، تو اسے وہ چيز مشکل نہيں لگتی، بلکہ اس کے لئے آسان ہو جاتی ہے اور خوشیوں کی سوغات نظر آتی ہے۔ یہی حال مومن کا ہے۔ جب اس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو جاتا ہے، تو اس کے لیے رب کے احکام کو بجا لانا آسان ہو جاتا ہے، رب کی بندگی میں مزہ آنے لگتا ہے اور اس راہ میں آنے والی پریشانیاں مشکل نہيں لگتیں۔
- ابن قیم کہتے ہیں: اس حدیث کے اندر اللہ کی ربوبیت والوہیت پر مطمئن رہنے، اس کے رسول اور رسول کی پیروی پر مطمئن رہنے‘ اس کے دین پر مطمئن رہنے اور دین کی تعلیمات کو سر آنکھوں پر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
تشریح: العربية
يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّ المؤمنَ الصادقَ في إيمانِه المُطمئنّ به قلبه سيجِدُ ويُدرِكُ في قلبِه من الانشراحِ والاتساعِ والفرح والحلاوة ولذة القُرْب من الله تعالى إنْ هو رَضِيَ بثلاثة أمور: أولًا: رضي بالله ربًّا، وذلك بأن يَنشرحَ صدرُه بما يَرِدُ عليه من الله بمقتضى الربوبية من قسمة الأرزاق والأحوال، فلا يجد في قلبه اعتراضًا على شيء من ذلك، ولم يطلُب ربًّا غير الله تعالى. ثانيًا: رضي بالإسلام دينًا، وذلك بأن ينشرحَ صدرُه بما يتضمنه الإسلام من التكاليف والواجبات، ولم يَسْعَ في غير طريقِ الإسلام. ثالثًا: رضي بمحمد صلى الله عليه وسلم رسولًا، وذلك بأن ينشرح صدره ويفرح بجميع ما جاء به من غير تَردُّد ولا شَك، فلم يَسْلُك إلا ما يوافق هَدْيَه صلى الله عليه وسلم.
- الإيمان له حلاوةٌ وطعْمٌ يُذاق بالقلوب، كما تُذاق حلاوة الطعام والشراب بالفم.
- الجسد لا يجد حلاوة الطعام والشراب إلا عند صحته، فكذلك القلب إذا سَلِم من مرض الأهواء المُضلَّة والشهوات المحرَّمة، وجد حلاوة الإيمان، ومتى مرض وسقم لم يجد حلاوة الإيمان، بل قد يستحلي ما فيه هلاكُه من الأهواء والمعاصي.
- الإنسان إذا رضي أمرًا واستحسنه سَهُل عليه أمره، ولم يشق عليه شيء منه، وفرح بكل ما جاء به، وخالط بشاشته قلبه، فكذلك المؤمن إذا دخل قلبه الإيمان، سهلت عليه طاعة ربه ولذَّت له نفسه، ولم يشق عليه معاناتها.
- قال ابن القيم: هذا الحديث تضمن الرضا بربوبيته سبحانه وألوهيته، والرضا برسوله والانقياد له، والرضا بدينه والتسليم له.