ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ البَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ القِيَامَةِ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں جن کی مثل پر لوگ ایمان لائے، اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجی ہے، چنانچہ میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکار ان سب سے زیادہ ہوں گے"۔
تشریح
نبی ﷺ نے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالى نے تمام انبیاء کرام کی تائید فرمائی اور انہیں ایسی خارق عادت آیات اور معجزات عطا فرمائے جن سے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جاتا ہے اور جو آپ کے دیکھنے والوں سے آپ کی سچائی پر ایمان لانے کا تقاضا کرتے ہیں، نیز یہ کہ چیلنج کے مقابلے میں وہ عاجز آجاتا ہے، اس طور پر کہ وہ اسے خود سے دفع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن بسا اوقات وہ انکار کرتا اور عناد برتتا ہے۔ آپﷺ کا معجزہ اور نشانی وہ قرآن ہے جسے اللہ نے آپ کی طرف وحی کی۔ یہ اپنے کثیر فائدے، عمومی افادیت، دعوت وحجت اور مستقبل کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایک واضح اور دائمی معجزہ ہے۔ چنانچہ اس کی افادیت ہر حاضر وغائب اور ہر موجود اور آئندہ آنے والے کے لیے عام ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔
فوائد
- انبیاء کے لیے نشانیوں کا اثبات امتوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے۔
- نبی ﷺ کے عظیم معجزے کا بیان۔
- نبی ﷺ کی عظمتِ شان اور تمام انبیائے کرام پر آپ ﷺ کی فضیلت وبرتری کا بیان۔
- ابن حجر آپ ﷺ کے فرمان ”وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ“ کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد آپ ﷺ کے معجزات کو اسی میں محصور کرنا نہیں ہے، اور نہ یہ کہ آپ ﷺ کو وہ معجزات عطا نہیں ہوئے جو آپ سے پہلے انبیاء کو دیے گئے تھے، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ (قرآن) وہ عظیم ترین معجزہ ہے جس کے ذریعہ آپ ﷺ کو دیگر انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔
- امام نووی فرماتے ہیں: ”فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا“ یہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اس کی خبر مسلمانوں کی قلت کے زمانے میں دی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا، مسلمانوں کو فتوحات عطا کیں اور ان میں برکت ڈالی، یہاں تک کہ مسلمانوں کا معاملہ اس معروف حد تک جا پہنچا اور وسیع ہو گیا، وللہ الحمد۔
تشریح: العربية
ذكر النبي صلى الله عليه وسلم أن الأنبياء كلهم أيَّدَهم الله وأعطاهم الآيات والمعجزات الخوارق التي يستدل بها على نبوته وتقتضي إيمان من شاهدها بصدقهم، وأنه مغلوب عليه في التحدي بحيث لا يستطيع دفعها عن نفسه، لكن قد يجحد فيعاند. وإنما هو صلى الله عليه وسلم آيته ومعجزته القرآن الذي أوحاه الله إليه؛ لما اشتمل عليه من الإعجاز الواضح المستمر لكثرة فائدته وعموم نفعه، لاشتماله على الدعوة والحجة والإخبار بما سيكون، فعم نفعه من حضر ومن غاب ومن وجد ومن سيوجد، ثم قال: فأرجو أن أكون أكثرهم أتباعًا يوم القيامة.
- إثبات الآيات للأنبياء، وهذا من رحمة الله تعالى وفضله على الأمم.
- بيان عظم معجزة النبي صلى الله عليه وسلم.
- بيان عظم منزلة النبي صلى الله عليه وسلم وأفضليته على سائر الأنبياء.
- قال ابن حجر في قوله: "وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ": وليس المراد حصر معجزاته فيه، ولا أنه لم يؤتَ من المعجزات ما أوتي مَن تقدَّمه، بل المراد أنه المعجزة العظمى التي اختص بها دون غيره.
- قال النووي: "(فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا) علم من أعلام النبوة، فإنه أخبر صلى الله عليه وسلم بهذا في زمن قلة المسلمين، ثم منَّ الله تعالى وفتح على المسلمين وبارك فيهم حتى انتهى الأمر واتسع الأمر في المسلمين إلى هذه الغاية المعروفة ولله الحمد.