حدیث

آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ اليَهُودِ قَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَؤُونَهَا، لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ اليَهُودِ نَزَلَتْ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ عِيدًا، قَالَ: أَيُّ آيَةٍ؟ قَالَ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3] قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ اليَوْمَ، وَالمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ.

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک یہودی شخص نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے، انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ اس نے کہا: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ نبی ﷺ پر نازل ہوئی، جب کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن عرفہ میں قیام فرما تھے۔

تشریح

ایک یہودی شخص امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: ”آپ کی کتاب قرآن میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہود کی جماعت پر ہماری کتاب تورات میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کون سی آیت؟“ ان لوگوں نے کہا: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن اور اس جگہ کو جانتے ہیں جہاں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ یہ عید کے دن یعنی جمعہ کو نبی ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ عرفات میں کھڑے تھے، اور یہ دونوں دن مسلمانوں کے نزدیک بڑے عظمت والے ہیں۔

فوائد

  • آیت کے نزول کے مقام اور وقت کے تئیں عمر رضی اللہ عنہ کے اہتمام کا بیان۔
  • اس آیت میں اس احسان کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے کہ اس نے اس کے دین کو مکمل کردیا اور اس پر اپنی نعمتیں تمام کردی ہیں، اس طرح کہ اب دین کے معاملے میں کسی اضافے کی ضرورت نہیں رہی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے دین کو مکمل کردینے کے بعد ہر وہ نئی چیز جس کی دین میں کوئی دلیل نہ ہو، وہ گمراہ کن بدعت شمار ہوگی، جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔
  • اس حدیث سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ عیدیں رائے اور ایجاد سے نہیں طے ہوتیں جیسا کہ ہم سے پہلے اہل کتاب کیا کرتے تھے؛ بلکہ وہ شریعت اور اتباع سے طے ہوتی ہیں۔ چوں کہ یہ آیت دین کے کامل ہونے اور نعمت کے تمام ہونے پر مشتمل تھی تو اللہ نے اسے ایک ایسے دن میں نازل فرمایا جسے اس نے دو وجہ سے اس امت کے لیے عید ٹھہرایا: ایک یہ کہ وہ ہفتے کی عید کا دن یعنی یومِ جمعہ ہے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ حاجیوں کی عید کا دن ہے، جو ان کے سب سے بڑے اجتماع اور سب سے عظیم وقوف کا دن ہے۔
  • سعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا، یعنی مکمل فتح ونصرت، ظاہری وباطنی احکام، اور اصول وفروع کی تکمیل کے ذریعے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب وسنت، دین کے احکام اور اس کے اصول و فروع کے لیے پوری طرح کافی ہیں۔ چنانچہ ہر وہ پر تکلف شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگوں کو اپنے عقائد اور احکام کی معرفت کے لیے کتاب وسنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم، جیسے علم الکلام وغیرہ، کی ضرورت ہے، تو وہ جاہل اور اپنے دعوے میں باطل پر ہے۔ اس نے یہ گمان کیا کہ دین اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اس کی کہی ہوئی اور اس کی دعوت دی ہوئی بات کو شامل نہ کیا جائے، یہ اللہ اور اس کے رسول پر سب سے بڑا ظلم اور انہیں جاہل ٹھہرانے کے مترادف ہے۔ {وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، یعنی ظاہری اور باطنی نعمتیں۔ {وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا، یعنی میں نے اسے تمہارے لیے بطورِ دین منتخب کیا اور چن لیا، جیسا کہ میں نے تمہیں اس کے لیے پسند فرمایا۔ لہذا تم اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر قائم رہو، اور اس ذات کی حمد بیان کرو جس نے تمہیں سب سے افضل، سب سے معزز اور سب سے کامل دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔
تشریح: العربية

جاء رجل من اليهود إلى أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه وقال له: آية في كتابكم القرآن تقرؤونها، لو نزلت علينا -معشر اليهود- في كتابنا التوراة لجعلنا ذلك اليوم عيدًا نحتفل به؛ شكرًا لنعمة نزول هذه الآية العظيمة، فقال له عمر رضي الله عنه: أي آية؟ قال: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا}. فقال عمر رضي الله عنه: قد عرفنا ذلك اليوم، والمكان الذي نزلت فيه هذه الآية الكريمة، فهي قد نزلت يوم عيد، وهو يوم الجمعة على النبي صلى الله عليه وسلم وهو قائم بعرفة، وهما يومان عظيمان عند المسلمين.

  • بيان ما كان عليه عمر رضي الله عنه من العناية بمكان نزول الآية وزمانها.
  • هذه الآية فيها بيان ما مَنَّ الله تعالى به على هذه الأمة حيث أكمل دينها، وأتمَّ نِعمَه عليها، بحيث لا تحتاج إلى زيادة في أمر الدين، فكل ما حدث بعد أن أكمله الله تعالى، مما لا دليل له منه يعتبر بدعة ضلالة، كما ثبت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه، فهو رد".
  • هذا الحديث قد يؤخذ منه أن الأعياد لا تكون بالرأي والاختراع كما يفعله أهل الكتابين من قبلنا؛ إنما تكون بالشرع والاتباع، فهذه الآية لما تضمنت إكمال الدين وإتمام النعمة أنزلها الله في يوم شرعه عيدًا لهذه الأمة من وجهين: أحدهما: أنه يوم عيد الأسبوع وهو يوم الجمعة. والثاني: أنه يوم عيد أهل الموسم، وهو يوم مجمعهم الأكبر وموقفهم الأعظم.
  • قال السعدي في تفسير هذه الآية: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ} بتمام النصر، وتكميل الشرائع الظاهرة والباطنة، الأصول والفروع، ولهذا كان الكتاب والسنة كافيين كل الكفاية، في أحكام الدين أصوله وفروعه، فكل متكلّف يزعم أنه لا بد للناس في معرفة عقائدهم وأحكامهم إلى علوم غير علم الكتاب والسنة، من علم الكلام وغيره، فهو جاهل، مبطل في دعواه، قد زعم أن الدين لا يكمل إلا بما قاله ودعا إليه، وهذا من أعظم الظلم والتجهيل لله ولرسوله، {وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي} الظاهرة والباطنة {وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} أي: اخترته واصطفيته لكم دينًا، كما ارتضيتكم له، فقوموا به شكرًا لربكم، واحمدوا الذي مَنَّ عليكم بأفضل الأديان وأشرفها وأكملها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید