ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَفَاتِحُ الغَيْبِ خَمْسٌ، {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنْزِلُ الغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ}».
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «غیب کی کنجیاں پانچ ہیں، {بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے}»
تشریح
غیب اللہ ہی کے پاس ہے، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور نبی ﷺ نے خبر دی کہ غیب کی کنجیاں اور اس کے خزانے پانچ ہیں: پہلا: قیامت کب قائم ہوگی، یہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس میں آخرت کے علوم کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ قیامت کا دن اس کی ابتدا ہے، اور جب قریب ترین چیز کے علم کی نفی ہوگئی تو اس کے بعد کی چیزوں کے علم کی تو بدرجہ اولیٰ نفی ہوگئی۔ دوسرا: اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی، اس میں عالمِ علوی کے امور کی طرف اشارہ ہے۔ بارش کو اس لیے خاص کیا گیا کہ اگرچہ اس کے کچھ اسباب ہیں جو عام طور پر اس کے واقع ہونے پر دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ بات حتمی اور یقینی نہیں ہوتی۔ تیسرا: وہ جو رحموں میں ہوتا ہے؛ مثلاً یہ کہ وہ لڑکا ہے یا لڑکی، کالا ہے یا گورا، کامل ہے یا ناقص، بدبخت ہے یا نیک بخت وغیرہ۔ رحم کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا کہ اکثر لوگ عادتاً اس کے بارے میں جانتے ہیں، اس کے باوجود اس کی حقیقت کے علم کی نفی کی گئی ہے، تو دیگر چیزوں کا علم تو بدرجہ اولیٰ نہیں ہو سکتا۔ چوتھا: اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا، اس میں زمانے کی مختلف حالتوں اور ان میں پیش آنے والے واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ ’کل‘ کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ یہ قریب ترین زمانہ ہے، اور جب اس کے قریب ہونے کے باوجود اس میں پیش آنے والے واقعات کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا، حالانکہ اس کی کچھ نشانیاں اور علامتیں ممکن ہیں، تو جو زمانہ اس سے دور ہے اس کا علم نہ ہونا تو بدرجہ اولیٰ ہے۔ پانچواں: نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، اس میں عالمِ سفلی کے معاملات کی طرف اشارہ ہے۔ اگرچہ اکثر لوگوں کا معمول یہی ہے کہ وہ اپنے ہی وطن میں وفات پاتے ہیں، لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں۔ بلکہ اگر کوئی اپنے وطن میں بھی فوت ہو جائے تو اسے یہ علم نہیں ہوتا کہ اسے وہاں کس ٹکڑے میں دفن کیا جائے گا، خواہ وہاں اس کے آباؤ واجداد کا قبرستان ہی کیوں نہ ہو۔ {إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} جو تمام ظاہر وباطن، ساری مخفیات اور رازوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس آیت نے غیب کی تمام اقسام کو جمع کر دیا اور تمام فاسد دعووں کو باطل کر دیا ہے۔
فوائد
- غیب کے ان پانچ خزانوں کا بیان جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
- سندی نے فرمایا: یہ قول کہ (غیب کی کنجیاں پانچ ہیں)، ان پانچ چیزوں کو غیب کی کنجیاں اس لیے کہا گیا ہے؛ کیونکہ جس کے پاس یہ پانچ چیزیں ہوں تو اس کے پاس تمام غیب ہے، چنانچہ یہ گویا ایسی چیزیں بن گئیں جن سے غیب کے خزانے کھولے جاتے ہیں۔
- ابن حجر کہتے ہیں: ابن ابی جمرہ نے کہا: ’’یہاں کُنجی سے تعبیر کرنے کا مقصد سننے والے کے لیے مسئلے کو قابل فہم بنانا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ چیز جس کے اور آپ کے بیچ میں پردہ حائل کر دیا گیا ہو، وہ آپ سے غائب ہے۔ ایسی چیز کو جاننے کے لیے عام طور پر دروازے سے جانا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر دروازہ بند ہو تو کنجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر یہی پتہ نہ ہو کہ کنجی کہاں ہے، تو بھلا غائب چیز تک رسائی کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘۔
- ابن ابی جمرہ نے فرمایا: انہیں پانچ مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس میں تمام جہانوں کے احاطے کی طرف اشارہ ہے۔
- اللہ عز وجل اپنی کسی حکمت کی بنا پر رسولوں پر بعض غیب ظاہر فرما دیتا ہے۔
- علم غیب کے معاملے میں نجومیوں اور کاہنوں کی قیاس آرائیوں کا ابطال، اور یہ کہ جس نے کسی ایسی چیز کے علم کا دعویٰ کیا جس کا علم اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور قرآن عظیم کو جھٹلایا۔
تشریح: العربية
الغيب عند الله لا يعلمه إلا هو، وأخبر النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن مفاتح الغيب وخزائنه خمسة: الأول: لا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله، إشارة إلى علوم الآخرة، فإن يوم القيامة أولها، وإذا نفى علم الأقرب انتفى علم ما بعده. الثاني: لا يعلم متى يأتي المطر إلا الله، إشارة إلى أمور العالم العلوي، وخص المطر مع أن له أسبابًا قد تدل بجري العادة على وقوعه لكنه من غير تحقيق ويقين. الثالث: ما يكون في الأرحام؛ من ذكر أو أنثى، أسود أو أبيض، كامل أو ناقص، شقي أو سعيد ونحوها، وخص الرحم بالذكر لكون الأكثر يعرفونها بالعادة، ومع ذلك فنفى أن يَعرف أحدٌ حقيقتها فغيرها بطريق الأولى. الرابع: لا يعلم ما في غد إلا الله، إشارة إلى أنواع الزمان وما فيها من الحوادث، وعبر بلفظ "غد" لتكون حقيقته أقرب الأزمنة، وإذا كان مع قربه لا يعلم حقيقة ما يقع فيه، مع إمكان الأمارة والعلامة فما بعد عنه أولى. الخامس: لا تدري نفس بأي أرض تموت، إشارة إلى أمور العالم السفلي، مع أن عادة أكثر الناس أن يموت ببلده ولكن ليس ذلك حقيقة، بل لو مات في بلده لا يعلم في أي بقعة يدفن منها، ولو كان هناك مقبرة لأسلافه، {إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} محيط بالظواهر والبواطن، والخفايا والخبايا، والسرائر، فجمعت الآية أنواع الغيوب، وأزالت جميع الدعاوي الفاسدة.
- بيان خزائن الغيب الخمسة التي لا يعلمها إلا الله.
- قال السندي: قوله (مفاتيح الغيب خمس)، سميت هذه الخمس: مفاتيح الغيب؛ لأن من عنده هذه الخمس فعنده الغيب كله، فصارت كأنها مما يستفتح بها خزائن الغيب.
- قال ابن حجر: قال ابن أبي جمرة: عبَّر بالمفاتح لتقريب الأمر على السامع؛ لأن كل شيء جعل بينك وبينه حجاب فقد غيب عنك، والتوصل إلى معرفته في العادة من الباب، فإذا أغلق الباب احتيج إلى المفتاح، فإذا كان الشيء الذي لا يطلع على الغيب إلا بتوصيله لا يعرف موضعه فكيف يعرف المغيب.
- قال ابن أبي جمرة: الحكمة في جعلها خمسًا الإشارة إلى حصر العوالم فيها.
- قد يُظهر الله عز وجل بعض الغيب للرسل، لحكمةٍ منه سبحانه.
- إبطال تَخَرُّصَات المنجِّمين والكهنة في تعاطيهم علم الغيب، وأن من ادعى علم شيء مما انفرد الله سبحانه بعلمه، فقد كذَّب اللهَ تعالى ورسولَه صلى الله عليه وسلم والقرآنَ العظيم.