حدیث

”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے“ [التوبۃ: 19] آیت کے آخر تک۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضيَ اللهُ عنهُما قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا أُبَالِي أَلَّا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الحَاجَّ، وَقَالَ آخَرُ: مَا أُبَالِي أَلَّا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ المَسْجِدَ الحَرَامَ، وَقَالَ آخَرُ: الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، وَقَالَ: لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الجُمُعَةِ، وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: 19] الآيَةَ إِلَى آخِرِهَا.

ترجمہ

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا تو ایک شخص نے کہا: اگر میں اسلام قبول کرنے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے کے سوا کوئی اور عمل نہ بھی کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ دوسرے نے کہا: اگر میں اسلام قبول کرنے کے بعد مسجد حرام کی خدمت کرنے کے سوا کوئی اور عمل نہ بھی کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ پھر ایک اور شخص نے کہا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا تمھاری ان باتوں سے افضل ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس اپنی آوازیں بلند مت کرو، اور یہ جمعہ کا دن تھا۔ لیکن جب میں جمعہ پڑھ لوں گا تو اندر جا کر آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھوں گا جس میں تم نے اختلاف کیا ہے۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے“ [التوبۃ: 19] آیت کے آخر تک۔

تشریح

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ نبی ﷺ کے منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو انھوں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد کوئی عمل نہ کروں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے۔“ اور ایک دوسرے نے کہا: مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کو آباد رکھنے کے سوا کوئی اور عمل نہ کروں، اور ایک تیسرے نے کہا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا تم دونوں کی باتوں سے افضل ہے۔ چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کی صبح انہیں نبی ﷺ کے منبر کے پاس آواز بلند کرنے پر ڈانٹا اور فرمایا کہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اندر جاکر میں نبی ﷺ سے اس معاملے میں دریافت کروں گا جس میں تمھارا اختلاف ہوا ہے، اس پر اللہ عزوجل نے نازل فرمایا: "کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان ﻻئے اور اللہ کی راه میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں اور اللہ تعالیٰ ﻇالموں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ [التوبۃ: 19]

فوائد

  • اجر وثواب میں اعمال کے الگ الگ درجات ہوتے ہیں۔
  • اعمال کے درجات کا تعین شریعت کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں کے اجتہادات کے مطابق۔
  • اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت، اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔
  • نووی کہتے ہیں: اس میں جمعہ اور دیگر دنوں میں مساجد میں آواز بلند کرنے کی کراہت کا بیان ہے، اور یہ کہ جب لوگ نماز کے لیے جمع ہوں تو علم یا کسی اور چیز کے لیے آواز بلند نہ کی جائے، کیونکہ اس سے نمازیوں اور ذکر کرنے والوں کو تشویش ہوتی ہے۔
تشریح: العربية

ذكر النعمان بن بشير رضي الله عنهما أنه كان جالسًا عند منبر النبي صلى الله عليه وسلم، فسمع رجلًا يقول: ما أبالي ألَّا أعمل عملًا بعد أن أسلمت إلا أن أَسقِي الحاج. وقال آخر: ما أبالي ألا أعمل عملًا بعد أن أسلمت إلا أن أَعْمُرَ المسجد الحرام، وقال آخر: الجهاد في سبيل الله أفضل مما قلتما. فزجرهم عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن رفع الصوت عند منبر النبي صلى الله عليه وسلم وكان صبيحة يوم الجمعة، ولكن إذا صليت الجمعة دخلت فاستفتيت النبي صلى الله عليه وسلم فيما اختلفتم فيه، فأنزل الله عز وجل: {أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [التوبة: 19].

  • تفاضل الأعمال في الأجر والثواب.
  • تفاضل الأعمال بحسب ما جاءت به الشريعة، وليس بحسب اجتهادات الناس.
  • فضل الجهاد في سبيل الله بشرط الإيمان بالله واليوم الآخر.
  • قال النووي: فيه كراهة رفع الصوت في المساجد يوم الجمعة وغيره، وأنه لا يرفع الصوت بعِلم ولا غيره عند اجتماع الناس للصلاة لما فيه من التشويش عليهم وعلى المصلين والذاكرين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید