حدیث

”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه أبو داود

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لِيَخْرُجْنَ وَهُنَّ تَفِلَاتٌ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“

تشریح

نبی ﷺ نے عورت کے ولی اور ذمہ دار کو عورتوں کو مساجد سے روکنے سے منع فرمایا، اور عورتوں کو حکم دیا کہ نکلتے وقت خوشبو نہ لگائیں اور زینت کا اظہار نہ کریں؛ تاکہ وہ مردوں کے لیے فتنے کا سبب نہ بنیں۔

فوائد

  • اگر فتنہ کا خوف نہ ہو اور عورت زیب وزینت اور خوشبو کے بغیر نکلے، تو اسے مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
  • اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے باہر نہ نکلے، کیونکہ اجازت دینے کا حکم شوہروں کو دیا گیا ہے۔
  • اسلام نے عورتوں کا خاص خیال رکھا ہے، اور انہیں ان امور سے منع نہیں کیا جن میں ان کے لیے خیر و بھلائی ہو، جیسے طلبِ علم وغیرہ کے لیے باہر نکلنا۔
  • عورت پر مرد کی سرپرستی اور اس کی نگرانی کا ثبوت۔
تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم ولي المرأة والمسؤول عنها عن منع النساء من المساجد، وأَمَرَ النساء عند الخروج أن يخرجن غير متطيبات ولا متبرجات بزينة؛ حتى لا يكنَّ سببًا في فتنة الرجال.

  • الإذن للمرأة بالصلاة في المسجد إذا أمنت الفتنة، وخرجت بدون زينة ولا طيب.
  • استدل به على أن المرأة لا تخرج من بيت زوجها إلا بإذنه، لتوجه الأمر إلى الأزواج بالإذن.
  • حرص الإسلام على النساء، وعدم منعها مما قد يكون فيه خير لها من الخروج لطلب العلم ونحوه.
  • ثبوت ولاية الرجل على المرأة ورعايته لها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید