حدیث

جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه ابن ماجه والحاكم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ المَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ»، وَلِلْحَاكِمِ: «وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)، اور جب نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے بچا لے)“، حاکم کی روایت میں ہے: ”جب نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے پناہ دے)“۔

تشریح

نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو یہ رہنمائی فرمائی کہ جب وہ مسجد میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کہہ کر سلام بھیجے: اللهم صل وسلم على محمد، پھر یہ دعا پڑھے: (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔ اور جب نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ کہے: (اللهمَّ اعصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)، اور حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ یوں کہے: (اللهمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)۔

فوائد

  • مسجد میں داخل ہوتے وقت اور مسجد سے نکلتے وقت ان دونوں دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
  • یہ ذکر تمام مساجد کے لیے عام ہے، حتی کہ مسجد حرام کے لیے بھی۔
  • داخل ہوتے وقت رحمت اور نکلتے وقت شیطان سے حفاظت کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا کہ داخل ہونے والا ایسے کاموں میں مشغول ہوتا ہے، جو اسے اللہ اور اس کی جنت سے قریب کرنے والے ہیں، اس لیے رحمت کا ذکر مناسب ہوا، جب کہ نکلنے کے بعد وہ دنیا کے لہو ولعب اور مشاغل میں لگ جاتا ہے، اس لیے مناسب ہوا کہ وہ اللہ سے دعا کرے کہ اسے شیطان سے محفوظ رکھے۔
تشریح: العربية

أرشد النبي صلى الله عليه وسلم المسلم إذا أراد الدخول إلى المسجد أن يسلم على النبي صلى الله عليه وسلم بقوله: اللهم صل وسلم على محمد، ثم ليقل: (اللهم افتح لي أبواب رحمتك). وإذا خرج فليسلم على النبي وليقل: (اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم)، وفي رواية للحاكم: وليقل: (اللهم أجرني من الشيطان الرجيم).

  • استحباب هذا الدعاء عند دخول المسجد والخروج منه.
  • الذكر عام في كل المساجد، حتى المسجد الحرام.
  • تخصيص ذكر الرَّحمة بالدُّخول، والعصمة من الشيطان بالخروج: أنّ الدَّاخل اشتغل بما يقرِّبه إلى الله وإلى جنته فناسَب أن يذكُر الرَّحمة، فإذا خرج فإنه ينطلق في الدنيا بما فيها من ملهيات ومشغلات، فناسب أن يطلب من الله الحماية والحفظ من الشيطان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید