حدیث

ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ» ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ».

ترجمہ

عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے"۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا : "اس کے لیے جو چاہے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ ہر اذان و اقامت کے درمیان نفل نماز ہے۔ اس جملے کو آپ نے تین بار دہرایا۔ تیسری بار آپ نے یہ اضافہ بھی فرمایا کہ یہ اس شخص کے لیے مستحب ہے، جو نماز پڑھنا چاہے۔

فوائد

  • اذان و اقامت کے درمیان نماز پڑھنا مستحب ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بات کو دہرایا کرتے تھے، تاکہ سامعین اچھی طرح سن لیں اور کہی گئی بات کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
  • یہاں دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہیں۔ ان کو "دو اذان" تغليبًا کہا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عرب کے لوگ سورج اور چاند کو "قمرین" یعنی دونوں چاند اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو "عمرین" یعنی دونوں عمر کہتے ہيں۔
  • اذان وقت داخل ہونے کا اعلان ہے۔ جب کہ اقامت نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہونے کا اعلان ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ بَيْنَ كلِّ أذانٍ وإقامةٍ صلاةُ نافلةٍ، وكرَّر ذلك ثلاثًا، وأخبر في الثالثة أن ذلك مُستحبٌّ لِمَن أراد أن يصلي.

  • استحباب الصلاة بين الأذان والإقامة.
  • هدي النبي صلى الله عليه وسلم في تكرار القول، وذلك إسماعًا وتأكيدًا لأهمية ما يقول.
  • المراد بالأذانين: الأذان والإقامة، وأطلق عليهما (الأذانَين) تغليبًا، كالقمرين (الشمس والقمر) والعُمَرَيْن (أبي بكر وعمر).
  • الأذان إعلام بدخول الوقت، والإقامة إعلام بحضور فعل الصلاة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید