حدیث

’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والنسائي

عربی متن

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ، فَسَأَلَاهُ مِنْهَا، فَرَفَّعَ فِينَا البَصَرَ وَخَفَّضَهُ، فَرَآنَا جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا، وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ، وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ».

ترجمہ

عبید اللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ دونوں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے بھی آپ ﷺ سے صدقہ میں سے مانگا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور ہمیں مضبوط اور توانا پایا، پھر فرمایا: ’’اگر تم دونوں چاہو تو میں تمھیں دے دیتا ہوں، لیکن صدقہ کے اس مال میں کسی مال دار کا اور کسی کمانے والے طاقتور شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

تشریح

حجۃ الوداع کے موقع پر دو آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ان دونوں نے درخواست کی کہ آپ ﷺ انہیں بھی اس میں سے عطا فرمائیں، تو آپ ﷺ ان کی طرف بار بار دیکھنے لگے تاکہ ان کی حالت معلوم کریں کہ آیا ان کے لیے صدقہ حلال ہے یا نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ دونوں تندرست اور توانا ہیں، اور فرمایا: ”اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں صدقے میں سے دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی ایسے شخص کا کوئی حصہ نہیں جس کے پاس اپنی ضرورت کے بقدر مال ہو، اور نہ ہی اس شخص کا جو کوشش کر کے مال کمانے پر قادر ہو، اگرچہ اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس کی بنا پر وہ امیر شمار ہوتا ہو۔“

فوائد

  • مالدار یا کمانے پر قادر طاقتور کے لیے بھیک مانگنا حرام ہے۔
  • جس شخص کے مال کا علم نہ ہو، اس کے سلسلے میں اصل یہ ہے کہ وہ فقیر اور صدقے کا مستحق ہے۔
  • صرف قوت وطاقت کا ہونا صدقے کا غیر مستحق ہونے کو لازم نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ کمانے کی قدرت ہونا بھی ضروری ہے۔
  • جو شخص اپنی ضروریات کے بقدر کمانے پر قادر ہو، اس کے لیے فرض کردہ صدقہ (زکاۃ) لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ کمانے کی وجہ سے (زکاۃ سے) بے نیاز ہے، جس طرح مال دار شخص مال کی وجہ سے بے نیاز ہوتا ہے۔
  • مسلمان شخص کی عزتِ نفس، اور لینے، سوال کرنے اور کاہلی کے بجائے نوازنے کی عظیم نبوی تربیت۔
تشریح: العربية

جاء رجلان إلى النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، وهو يقسم الصدقة، وطلبا أن يعطيهما منها، فجعل صلى الله عليه وسلم يكرر النظر إليهما، ليعرف حالهما، وهل تحِلَّ لهما الصدقة، أم لا؟ فرآهما رجلين قويين، فقال: إن أردتما أعطيتكما من الصدقة، ولا نصيب فيها لمن معه مال يكفيه، ولا لقادر على السعي وكسب المال، وإن لم يكن له معه مال يعد به غنيًا.

  • تحريم مسألة الشخص الغني أو القوي المكتسب.
  • الأصل فيمن لم يعلم له مال الفقر والاستحقاق من الصدقة.
  • مجرد القوة لا تقتضي عدم استحقاق الصدقة، بل لا بد من أن ينضم إليها القدرة على الاكتساب.
  • القادر على اكتساب ما يكفيه لا يجوز له الأخذ من الصدقة المفروضة؛ لاستغنائه بالكسب، كاستغناء الغني بالمال.
  • التربية النبوية العظيمة للشخصية المسلمة على عزة النفس، وعلى العطاء لا الأخذ والسؤال والكسل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید