ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَكَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْلَتَيْنِ فِي يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ.
ترجمہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: آلِ محمد ﷺ نے ایک دن میں دو کھانے نہیں کھائے، اِلّا یہ کہ ان میں سے ایک کھجوریں ہوتیں۔
تشریح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے اہل بیت نے ایک دن میں دو وقت کھانا نہیں کھایا، الا یہ کہ ان میں سے ایک کھانا کھجوریں ہوتیں۔
فوائد
- نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت کا تواضع یہ تھا کہ بسا اوقات انہیں دن میں صرف ایک وقت کا کھانا ہی میسر ہوتا۔
- ان کے ہاں کھجور دیگر چیزوں کی بنسبت زیادہ میسر تھی۔
- زہد وورع اور تھوڑی سی روزی پر گزر بسر کرنے کی فضیلت، نیز یہ کہ یہ نبیوں کے اخلاق اور سید المرسلین کی سیرت کا حصہ ہے۔
- دن میں دو مرتبہ کھانا کھانا مباح اور جائز امور میں سے ہے، اور یہ عربوں کی ایک معروف عادت ہے۔ وہ دن میں دو کھانے کھاتے تھے، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا۔
تشریح: العربية
تُخبر أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها أن أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم لم يأكلوا وجبتين في يوم واحد إلا كانت إحدى الوجبتين هي التمر.
- تواضع النبي صلى الله عليه وسلم وأهل بيته، فربما لم يجدوا في اليوم إلا أكلة واحدة.
- التمر كان أيسر عندهم من غيره.
- فضيلة الزهد والاكتفاء بالقليل من العيش، وكونه من أخلاق النبيين، وسيرة سيد المرسلين.
- تناول الطعام مرتين في اليوم الواحد من الأمور المباحة الجائزة، وهو من عادات العرب المعروفة، كانوا يأكلون في اليوم أكلتين، أكلة الغداء، وأكلة العشاء.