ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ، وَحَشْوُهُ مِنْ لِيفٍ، وَلِمُسلمٍ: كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ.
ترجمہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، اور اس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی، مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وہ تکیہ جس پر آپ ﷺ ٹیک لگاتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی۔
تشریح
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ آرام فرماتے تھے، دباغت دیے ہوئے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، اسی طرح آپ ﷺ کا تکیہ بھی تھا جس پر آپ ٹیک لگاتے تھے۔
فوائد
- نبی ﷺ کے زہد اور دنیا کی لذتوں سے اعراض برتنے کا بیان، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو اس پر قدرت بخشی تھی کہ اگر آپ چاہتے تو اس سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔
- بستر اور تکیوں کا استعمال کرنا، ان پر سونا اور ان پر ٹیک لگانا جائز ہے۔
- مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی حالت اور طرزِ زندگی کا اپنے نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے موازنہ کرے، کیونکہ آپ ﷺ ہی اسوہ حسنہ ہیں، اور جس نے آپ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کی وہ ہدایت یاب ہوا اور دنیا وآخرت میں فلاح پا گیا۔
- آخرت کی تیاری کی فکر کرنا، اور یہ کہ مومن اسی قدر دنیاوی نعمت پر اکتفا کرے جو اسے اللہ کی اطاعت میں مدد دے اور بہت زیادہ دنیا طلبی میں مشغول نہ رہے۔ اللہ نے ایک قوم کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ہے: (زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے)۔ [التكاثر:1- 2]
تشریح: العربية
أخبرت أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها أن الفراش الذي كان ينام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم مصنوع من جلد مَدْبوغ، ومملوء بليف من النخل، وكذلك مخدته التي يستند عليها.
- بيان ما كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم من الزهد والإعراض عن ملاذ الدنيا، مع أن الله سبحانه وتعالى مكَّنه من ذلك لو شاء أن يستمتع بها.
- جواز اتخاذ الفرش والوسائد، والنوم عليها والارتفاق بها.
- ينبغي للمسلم أن يعتبر حالَه ومعيشتَه بحال نبيه صلى الله عليه وسلم، فإنه الأسوة الحسنة، وأن من اقتفى آثاره اهتدى وأفلح في الدنيا والآخرة.
- الحرص على الإعداد للآخرة، وأن يكتفي المؤمنُ من الدنيا بما يُعينه على طاعة الله، وألا يُشغل بالتَّكاثر فيها، وقد ذمَّ الله قومًا فقال: {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} [التكاثر:1- 2].