حدیث

رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أحمد والبيهقي

عربی متن

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ حَتَّى يَدْعُوَهُمْ.

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔

تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے تھے، جب تک کہ پہلے انہیں اسلام کی دعوت نہ دے دیتے۔ پھر اگر وہ دعوت قبول نہ کرتے تو آپ ان سے قتال کرتے۔

فوائد

  • قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا اس صورت میں مشروط ہے جب ان تک اسلام نہ پہنچا ہو۔
  • نبی ﷺ انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اگر وہ انکار کر دیتے، تو آپ ان کے سامنے جزیہ کی پیش کش رکھتے۔ اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے، تو آپ ان سے جنگ کرتے، جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے۔
  • جہاد کی حکمت لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، نہ کہ ان کی جانوں، مالوں اور ملکوں کو تباہ کرنا۔
تشریح: العربية

أخبر ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يبدأ بمقاتلة قوم حتى يدعوهم إلى الإسلام أولًا، فإن لم يستجيبوا لدعوته قاتلهم.

  • اشتراط الدعوة إلى الإسلام قبل القتال إذا كان الإسلام لم يبلغهم.
  • كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعوهم إلى الإسلام، فإن رفضوا عرض عليهم دفع الجزية، فإن رفضوا قاتلهم، كما جاء في أحاديث أخرى.
  • الحكمة في الجهاد دخول الناس في الإسلام، وليس الطمع في رقابهم وأموالهم وبلادهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید