حدیث

’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ».

ترجمہ

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو سامنے اسے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ تم آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقے کرنے) کے ذریعے ہی سے ہو۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ہر مومن اللہ تعالی کے سامنے اکیلا کھڑا ہوگا اور اللہ اس سے بلاواسطہ بات کرے گا۔ دونوں کے درمیان بات کا ترجمہ کرنے کے لیے کوئی ترجمان نہيں ہوگا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں دائيں بائيں دیکھے گا کہ شاید جہنم سے، جو اس کے سامنے موجود ہے، بھاگنے کا کوئی راستہ مل جائے۔ لیکن دائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اچھے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ بائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ جب کہ آگے دیکھے گا، تو جہنم نظر آئے گی، جس سے وہ بچ کر نکل نہيں سکے گا، کیوں کہ اسے صراط سے گزرنا ہی پڑے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اپنے اور جہنم کے بیچ صدقہ اور نیکی کے کام کو آڑ بنا لو۔ یہ چاہے کسی معمولی چيز، جیسے آدھی کھجور کا صدقہ کرکے ہی کیوں نہ ہو۔

فوائد

  • صدقہ کرنے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اچھے اخلاق و عادات اختیار کرنے، لطف آمیز معاملہ کرنے اور نرمی سے بات کرنے کی ترغیب۔
  • اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے بندے سے اتنا قریب ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ، کوئی واسطہ اور کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ لہذا مومن کو اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔
  • انسان کو کسی بھی صدقے کو کم تر نہیں جاننا چاہیے۔ چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ صدقہ آگ سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بأنَّ كلَّ مؤمن سيقف بين يدي الله يوم القيامة لوحدِه، وأنّ الله تعالى سيُكلّمه بدون واسطة وليس بينهما مترجم يترجم الكلام، فينظر جهة اليمين والشمال من شدة الفزع، ولعله أن يجد طريقًا يذهب فيها ليحصل له النجاة من النار التي هي أمامه. فإذا نظر في الجانب الذي على يمينه فلا يرى إلا ما قدَّمَ من العمل الصالح، وإذا نظر عن شماله فلا يرى إلا ما قدَّم من العمل السيء، وإذا نظر أمامه فلا يرى إلا النار، ولا يمكنه أن يَحيدَ عنها إذ لا بدّ له من المرور على الصراط. ثم قال صلى الله عليه وسلم: اجعلوا بينكم وبين النار وقاية من الصدقة وعمل البر، ولو بشيء يسير كنصف تمرة.

  • الحث على الصدقات وإن قَلَّتْ والتَّخَلُّق بالخصال الحميدة، والمعاملة باللطف ولين الكلام.
  • قرب الله تعالى من عبده يوم القيامة، إذ ليس بينهما حجاب ولا واسطة ولا ترجمان، فليَحذَر المؤمن من مخالفة أمر ربه.
  • ينبغي على المرء أن لا يحتقر ما يتصدق به، ولو كان يسيرًا، فإنه وقاية من النار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید