ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «صَلاَحُ ذَاتِ البَيْنِ، فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ البَيْنِ هِيَ الحَالِقَةُ».
ترجمہ
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل چیز نہ بتاؤں؟» صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں!، آپ ﷺ نے فرمایا: «لوگوں کے درمیان صلح کروانا، کیونکہ آپسی بگاڑ ہلاک کر دینے والی چیز ہے۔»
تشریح
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا میں تمہیں بہت زیادہ نفلی روزوں، نمازوں اور صدقات کے ثواب سے بھی افضل چیز کے بارے میں بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: آپس میں لڑنے والوں کے درمیان صلح کرانا، کیونکہ لڑائی جھگڑا لوگوں کے درمیان جدائی، وحشت، باہمی بغض ونفرت اور قطع تعلقی کا سبب بنتا ہے۔ درحقیقت آپسی بگاڑ سے پیدا ہونے والا بغض وہ خصلت ہے جو دین و دنیا کو اس طرح ہلاک اور جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے جس طرح استرا بالوں کو مونڈ دیتا ہے۔
فوائد
- نبی ﷺ کا یہ طریقہ تعلیم کہ آپ صحابہ سے سوال کرتے اور انہیں جواب جاننے کا شوق دلاتے۔
- طیبی نے فرمایا: اس میں لوگوں کے درمیان صلح کرانے اور آپسی بگاڑ سے بچنے کی ترغیب ہے؛ کیونکہ صلح کرانا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور مسلمانوں کے درمیان آپسی اتحاد کا ذریعہ ہے، اور آپسی بگاڑ دین میں ایک رخنہ ہے۔ چنانچہ جو شخص اس کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے اور اس بگاڑ کو دور کرتا ہے، وہ اس روزہ دار اور تہجد گزار سے بھی بلند درجہ پاتا ہے جو اپنی خاص عبادت میں مشغول رہتا ہے۔
تشریح: العربية
سأل النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه: هل أخبركم بأفضل من أجر الإكثار من نافلة الصيام والصلاة والصدقة؟ قالوا: نعم. قال: الإصلاح بين المتخاصمين حيث تورث الخصومة الفرقة والوحشة والتباغض والتدابر بين الناس، فإنَّ ما يترتب على فساد ذات البين من البغضاء هي الخصلة التي من شأنها أن تهلك وتستأصل الدين والدنيا كما يستأصل الموسى الشعر.
- هدي النبي صلى الله عليه وسلم بسؤال الصحابة وتشويقهم لمعرفة الجواب.
- قال الطيبي: الحث والترغيب في إصلاح ذات البين واجتناب إفسادها؛ لأن الإصلاح سبب للاعتصام بحبل الله وعدم التفرق بين المسلمين، وفساد ذات البين ثلمة في الدين فمن تعاطى إصلاحها ورفع فسادها نال درجة فوق ما يناله الصائم القائم المشتغل بخاصة نفسه.