حدیث

مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ عَلَى المُشْرِكِينَ قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مشرکوں پر بد دعا کردیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہيں بھیجا گیا ہے۔ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے"۔

تشریح

نبی ﷺ سے مشرکوں کے حق میں بد دعا کرنے کے لیے کہا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ کی طرف سے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ میں لوگوں کو بد دعا دوں اور انہیں اللہ کی رحمت سے دھتکار کر خیر سے محروم کر دوں۔ مجھے اس مقصد کے لیے مبعوث نہیں کیا گیا، بلکہ مجھے تو تمام لوگوں کے لیے بالعموم، اور مومنوں کے لیے بالخصوص، خیر ورحمت کا سبب بنا کر بھیجا گیا ہے۔

فوائد

  • آپ ﷺ کا کمالِ اخلاق۔
  • نبی ﷺ کی اقتدا میں زبان کو گالی گلوچ اور لعن طعن سے پاک رکھنے کی اہمیت۔
  • لعنت کرنے کی ممانعت۔
  • لوگوں پر رحم کرنے کی ترغیب۔
تشریح: العربية

طُلب من النبي صلى الله عليه وسلم أن يدعوَ على المشركين بالله، فقال: إني لم أبعث من الله وأُرسل لعانًا أدعو على الناس بالإبعاد والطرد من رحمة الله فأقطعهم عن الخير، إني لم أبعث لهذا، وإنما بُعثتُ لأكون سبب خير ورحمة للناس عامة، وللمؤمنين خاصة.

  • كمال خلقه صلى الله عليه وسلم.
  • أهمية تنزيه اللسان من السباب واللعن اقتداءً بالنبي صلى الله عليه وسلم.
  • فيه النهي عن اللعن.
  • الحث على الرحمة بالناس.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید