حدیث

جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحاسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے

عربی متن

عَنْ أُمِّ المُؤْمِنِينَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ». وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ».

ترجمہ

ام المؤمنين ام عبداللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ ناقابلِ قبول ہے"۔ جب کہ مسلم کی روایت میں ہے: "جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ نا قابل قبول ہے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے دین کے اندر ایسی کوئی نئی چیز ایجاد کی یا ایسا کوئی نیا کام کیا، جو قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو، تو اسے اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا اور اللہ کے یہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔

فوائد

  • عبادتوں کی بنیاد قرآن اور حدیث ہے۔ لہذا ہم اللہ کی عبادت قرآن اور حدیث کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی کریں گے۔ بدعتوں اور عبادت کی نت نئی شکلوں سے ہر حال میں دور رہيں گے۔
  • دین کی بنیاد رائے اور استحسان پر نہیں ہے۔ دین کی بنیاد اتباع رسول پر ہے۔
  • یہ حدیث دین کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔
  • بدعت ہر اس عقیدہ، قول یا عمل کو کہتے ہیں، جسے دین کے ایک جزء کے طور پر ایجاد کیا گیا ہو اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کے زمانے میں موجود نہ رہا ہو۔
  • یہ حدیث اسلام کے ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اعمال کے میزان کی طرح ہے۔ جس طرح جب کسی عمل کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول نہ ہو، تو کرنے والے کو اس کا کوئی ثواب نہيں ملتا، اسی طرح جو عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق نہ کیا جائے، اسے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔
  • یہ حدیث دین کے نام پر ایجاد کی جانے والی نئی نئی بدعات اور رونما ہونے والے منکرات کے بارے میں ایک قاعدہ اور اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • منع صرف ان نئی چیزوں سے کیا گیا ہے، جن کا تعلق دین سے ہو، ان سے نہيں، جن کا تعلق دنیا سے ہو۔
تشریح: العربية

يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن اخترَعَ في الدِّينِ أو عَمِلَ عملًا لم يَدُل عليه دليلٌ من الكتاب والسنة، فهو مَردودٌ على صاحبِه غير مقبول عند الله.

  • العبادات مبناها على ما جاء في الكتاب والسنة، فلا نعبد الله تعالى إلا بما شَرَعَ لا بالبدع والمُحْدَثات.
  • الدين ليس بالرأي والاستحسان، وإنما بالاتباع للرسول صلى الله عليه وسلم.
  • هذا الحديث دليلٌ على كمال الدين.
  • البدعة هي كل ما أُحْدِثَ في الدين ولم يَكنْ على عهدِ النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه من عقيدةٍ أو قولٍ أو عملٍ.
  • هذا الحديث أصلٌ من أصول الإسلام، وهو كالميزان للأعمال، فكما أنَّ كلَّ عَمَلٍ لا يُراد به وجه الله تعالى، فليس لعامله فيه ثواب، فكذلك كلُّ عمل لا يكون وِفْقَ ما جاء به رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو مردود على عامله.
  • الحديث قاعدة في رد البدع المحدثات والمنكرات الواقعات.
  • المُحْدَثات المنهي عنها ما كان من أمور الدين وليس الدنيا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید