حدیث

دین خیر خواہی کا نام ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي رُقَيَّةَ تَمِيمِ بْنِ أَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ».

ترجمہ

ابو رقیہ تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "دین خیر خواہی کا نام ہے"۔ ہم نے عرض کیا: کس کی خیر خواہی کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم حکمرانوں کی اور عام مسلمانوں کی۔“

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ دین اخلاص اور صدق کی بنیادوں پر قائم ہے۔ یعنی دین پر عمل مکمل طور پر اسی طرح ہونا چاہیے، جیسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ اس میں نہ کوئی کمی ہو اور نہ فریب۔ چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ خیرخواہی کس کی ہونی چاہیے؟ تو آپ نے جواب دیا: 1- اللہ سبحانہ و تعالی کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی خاطر عبادت کی جائے، کسی کو اس کا ساجھی نہ بنایا جائے، اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسما وصفات پر ایمان رکھا جائے، اس کے حکم کى تعظیم کی جائے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ 2- اللہ کی کتاب یعنی قرآن پاک کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کا کلام مانا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی آخری اور پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی کتاب تسلیم کیا جائے، اس کی کما حقہ تعظیم اور تلاوت کی جائے، اس کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے، اس کی متشابہ آیتوں کو تسلیم کیا جائے، اس کی آیتوں کے غلط مطالب بیان کرنے والوں کی غلط بیانیوں کو سامنے لا کر اس کا دفاع کیا جائے، اس کی موعظتوں سے عبرت حاصل کی جائے، اس کے علوم کو پھیلایا جائے اور اس کی دعوت دی جائے۔ 3- اللہ کے رسول ﷺ کے لیے: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے آخری رسول ہونے پر یقین رکھا جائے، آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کی تصدیق کی جائے، آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کے بتائے ہوئے طریقے ہی کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے، اس بات کو مانا جائے کہ ہمارے اوپر آپ کا بہت بڑا حق ہے، آپ کی عزت کی جائے، آپ کی دعوت کو عام کیا جائے، آپ کى لائی ہوئی شریعت کو پھیلایا جائے اور آپ پر لگائے جانے والے الزامات کا رد کیا جائے۔ 4- مسلم حکمرانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پر ان کی مدد کی جائے، ان سے ٹکرانے سے اجتناب کیا جائے اور نیکی کے کاموں میں ان کی بات سنی اور مانی جائے۔ 5- عام مسلمانوں کی خیر خواہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کو اچھے کاموں کی دعوت دی جائے، ان کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے، ان کا بھلا ہو اس بات سے محبت رکھی جائے اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں ان کے ساتھ باہمی تعاون کا رشتہ رکھا جائے۔

فوائد

  • سبھوں کی خیرخواہی کا حکم۔
  • دین میں خیرخواہی کا بڑا مقام ہے۔
  • دین‘ اعتقادات، اقوال اور اعمال پر مشتمل ہے۔
  • خیرخواہی کے اندر یہ بات بھی داخل ہے کہ جس کی خیرخواہی کرنی ہے، اس کے ساتھ کسی بھی طرح کے دھوکے سے نفس کو پاک رکھا جائے اور اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھا جائے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ کے تعلیم دینے کا ایک بہترین طریقہ یہ تھا کہ آپ پہلے چیزوں کو مجمل طور پر بیان کرتے تھے اور اس کے بعد ان کی تفصیل بیان کرتے تھے۔
  • آغاز اہم ترین سے اہم کی طرف کی ترتیب کے ساتھ کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ کی خیرخواہی کا ذکر کیا اور اس کے بعد اللہ کی کتاب کی خیرخواہی، اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہی، اس کے بعد مسلم حکمرانوں کی خیرخواہی اور اس کے بعد عام مسلمانوں کی خیرخواہی کا ذکر کیا۔
تشریح: العربية

أَخبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بأنَّ الدين قائمٌ على الإخلاص والصدق، حتى يؤدَّى كما أوجب الله، كاملًا دون تقصير أو غش. فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم: لمن تكون النصيحة؟ فقال: أولًا: النصيحة لله سبحانه وتعالى: بإخلاص العمل له، وعدم الإشراك به، وأن نؤمن بربوبيته وألوهيته وأسمائه وصفاته، وتعظيم أمره، والدعوة إلى الإيمان به. ثانيًا: النصيحة لكتابه وهو القرآن الكريم: بأن نعتقد أنه كلامُه، وآخِرُ كتبِه، وأنه ناسخ لجميع الشرائع قبله، ونعظِّمه، ونتلوه حق تلاوته، ونعمل بمُحْكَمِه، ونسلم بمتشابهه، ونَذُبُّ عن تأويل المُحرِّفين له، ونعتبر بمواعظه، وننشر علومه، وندعو إليه. ثالثًا: النصيحة لرسوله محمد صلى الله عليه وسلم: بأن نعتقدَ أنه آخِرُ الرسل، ونصدِّقَه فيما جاء به، ونَمتَثِلَ أمرَه، ونجتنبَ نهيَه، وأن لا نتعبدَ لله إلا بما جاء به، ونُعظِّمَ حقَّه، ونوقرَه، ونَبُثَّ دعوته، ونَنشُرَ شريعتَه، ونَنفيَ التُّهَمَ عنه. رابعًا: النصيحة لأئمة المسلمين: بمعاونتهم على الحق، وعدم منازعتهم الأمر، والسمع والطاعة لهم في طاعة الله. خامسًا: النصيحة للمسلمين: بالإحسان إليهم ودعوتهم، وكَفِّ الأذى عنهم، ومحبة الخير لهم، والتعاون معهم على البر والتقوى.

  • الأمر بالنصيحة للجميع.
  • عِظَم منزلة النصيحة من الدين.
  • اشتمال الدين على الاعتقادات والأقوال والأعمال.
  • من النصيحة تصفية النفس من الغش للمنصوح له وإرادة الخير له.
  • حسن تعليم الرسول صلى الله عليه وسلم حيث يذكر الشيء مُجملًا ثم يُفصّله.
  • البداءة بالأهم فالأهم، حيث بدأ النبي صلى الله عليه وسلم بالنصيحة لله، ثم لكتابه، ثم لرسوله صلى الله عليه وسلم ثم لأئمة المسلمين، ثم عامتهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید