ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَن ابنِ عباسٍ رضي الله عنهما أنَّ رسولَ اللهِ صلي الله عليه وسلم قال: «لَو يُعطَى النّاسُ بدَعواهُم لادَّعَى رِجالٌ أموالَ قَومٍ ودِماءَهُم، لَكِنَّ البَيِّنَةَ على المُدَّعِى، واليَمينَ على مَن أنكَرَ».
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو کچھ لوگ، لوگوں کی جان اور مال تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لیکن، دعوی کرنے والے کو دلیل پیش کرنی ہے اور انکار کرنے والے کو قسم کھانی ہے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر لوگوں کو دلائل اور قرائن کی پڑتال کیے بغیر محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور جان تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لہذا مدعی کو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرنے ہوگی۔ اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو، تو دعوے کو مدعی علیہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر اس نے انکار کر دیا، تو اسے قسم کھانی ہوگی۔ اس کے بعد وہ بری ہو جائے گا۔
فوائد
- ابن دقیق العید کہتے ہيں: یہ حدیث اسلامی احکام کے ایک بنیادی اصول اور تنازع و جھگڑے کے وقت ایک عظیم ترین مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔
- شریعت اسلامی کا ایک بنیادی مقصد جان ومال کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی راہ کو بند کرنا اور جان ومال کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
- قاضی اپنے علم کی روشنی میں نہیں بلکہ دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔
- بلا دلیل دعوی قابل قبول نہيں ہے۔ دعوی کا تعلق چاہے حقوق و معاملات سے ہو یا ایمان و علم کے مسائل سے۔
تشریح: العربية
بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنه لو يُعطى الناس بمُجَرَّدِ دَعواهم مِن غير أدلّة ولا قرائن لادَّعى أُناسٌ أموالَ قومٍ ودماءَهم، ولكن يجب على المُدَّعِي تقديمُ البينةِ والدليلِ بما يُطالِب، فإن لم يكن له بينة فتُعرَضُ الدعوى على المُدَّعَى عليه، فإن أنكرها فعليه الحَلِفُ ويَبْرَأ.
- قال ابن دقيق العيد: وهذا الحديث أصل من أصول الأحكام، وأعظم مرجع عند التنازع والخصام.
- الشريعة جاءت لحماية أموال الناس ودمائهم عن التلاعب.
- القاضي لا يَحكم بعلمه وإنما يَرجع إلى البينات.
- كل من ادّعى دعوى خالية عن برهان فهي مردودة، وسواء كانت في الحقوق والمعاملات أو في مسائل الإيمان والعلم.