حدیث

چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو بد زبانی کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحاسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رضي الله عنهما قال: قال رَسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا، وَإِنْ كَانَتْ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ فِيهِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وإذَا خَاصَمَ فَجَرَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی، جب تک وہ اسے چھوڑ نہیں دیتا: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار خصلتوں سے خبردار کیا ہے کہ جب کسی مسلمان کے اندر جمع ہو جائيں، تو وہ ان خصلتوں کی بنا پر منافقوں کے بے حد مشابہ ہو جاتا ہے۔ دراصل یہاں بات اس شخص کی ہو رہی ہے، جس کی شخصیت پر یہ اوصاف حاوی ہو جائيں۔ اگر کسی کے اندر یہ اوصاف کبھی کبھار دکھیں، تو وہ اس میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ چار خصائل ہيں : 1- جب بات کرے تو جان بوجھ کر جھوٹ بولے اور سچ بولنے سے گریز کرے۔ 2- جب کوئی معاہدہ کرے، تو اسے پورا نہ کرے اور سامنے والے کے ساتھ دھوکہ کر ڈالے۔ 3- جب کوئی وعدہ کرے، تو اسے نہ نبھائے۔ توڑ ڈالے۔ 4- جب کسی کے ساتھ جھگڑا کرے، تو بڑے سخت انداز میں جھگڑا کرے۔ حق سے گریز کر جائے، حق کی تردید اور اسے باطل ثابت کرنے کے لیے بہانے تلاش کرنے لگے اور ناحق بات اور جھوٹ بکے۔ کیوں کہ نفاق نام ہے دل ميں کچھ اور رکھنے اور ظاہر کچھ اور کرنے کا۔ اور یہ معنی ان خصائل کے حامل شخص کے اندر پایا جا رہا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ان خصائل کے حامل شخص کا نفاق دراصل اس شخص کے حق میں ہوگا، جس نے اس سے بات کی ہے، عہد کیا ہے، اس کے پاس امانت رکھی ہے اور جھگڑا کیا ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اسلام کے سلسلے میں منافق ہے۔ مسلمان ہونے کا دکھاوا کرتا ہے اور اندر کفر چھپائے رکھتا ہے۔ جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک صفت ہوگی۔ جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔

فوائد

  • نفاق کی کچھ علامتوں کا بیان، تاکہ ان میں واقع ہونے سے خوف دلا کر خبردار کیا جا سکے۔
  • حدیث کا مقصود یہ ہے کہ یہ خصائل نفاق کے خصائل ہيں اور ان کا حامل شخص ان خصائل میں منافقوں کے مشابہ اور ان کے اخلاق کا حامل ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ایسا منافق ہے، جو مسلمان ہونے کا دکھاوا کرتا ہو اور دل میں کفر چھپائے رکھتا ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اس شخص پر محمول ہے، جس پر یہ خصائل حاوی ہو جائيں اور وہ ان خصلتوں کو معمولی سمجھنے لگے۔ کیوں کہ اس طرح کا شخص عام طور پر بدعقیدہ بھی ہوا کرتا ہے۔
  • غزالی کہتے ہیں: دراصل دین داری کا انحصار تین چیزوں پر ہے: قول، فعل اور نیت۔ یہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے قول میں بگاڑ کا اشارہ جھوٹ کے ذریعے، فعل میں بگاڑ کا اشارہ خیانت کے ذریعے اور نیت میں بگاڑ کا اشارہ وعدہ خلافی کے ذریعے فرمایا۔ کیوں کہ وعدہ خلافی اسی وقت معیوب ہے، جب وعدہ کرتے وقت ہی وعدہ پورا نہ کرنے کی نیت کر لی جائے۔ اس کے برخلاف اگر کسی نے وعدہ پورا کرنے کی نیت رکھی، لیکن کوئی رکاوٹ حائل ہو گئی اور وعدہ پورا نہیں کر سکا، تو اس کا یہ عمل نفاق کے دائرے میں نہيں آئے گا۔
  • نفاق کی دو قسمیں ہیں : ایک اعتقادی نفاق، جو انسان کو ایمان کے دائرے سے باہر نکال دیتا ہے۔ اعتقادی نفاق نام ہے اسلام کا اظہار کرنے اور اندر کفر چھپائے رکھنے کا۔ دوسرا عملی نفاق، جو انسان کو ایمان کے دائرے سے باہر تو نہیں نکالتا، لیکن ہے کبیرہ گناہ۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص اپنے دل اور زبان سے تصدیق کرے اور اس کے باوجود یہ کام کرے، تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ اسے ایسا منافق بھی نہيں گردانا جائے گا، جس کا ٹھکانہ سدا کے لیے جہنم ہو۔
  • نووی کہتے ہیں: علما کی ایک جماعت کہتی ہے: اس سے مراد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد کے منافق ہيں، جنھوں نے مومن ہونے کی بات کہہ کر جھوٹ بولا، دین کی امانت اٹھائی اور خیانت کی، دین پر قائم رہنے اور اس کی مدد کرنے کا وعدہ کر کے اسے توڑ ڈالا اور اپنے جھگڑوں میں بد زبانی کا مظاہرہ کیا۔
تشریح: العربية

حَذَّرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن أربعِ خِصال إذا اجتمعت في مسلم كان شديدَ الشَّبَهِ بالمنافقين بسبب هذه الخصال، وهذا فيمن كانت هذه الخصال غالبةً عليه، وأما من يَنْدُرُ فليس داخلًا فيه، وهي: الأولى: إذا حَدَّث تعمَّد الكذب وعدم الصدق في كلامه. الثانية: إذا عاهد عهدًا لم يُوْفِ به، وغَدَرَ بصاحبِه. الثالثة: إذا وَعَدَ وَعْدًا لم يَفِ به وأَخلَفَه. الرابعة: إذا تَخَاصَم وتَشَاجَرَ مع أحد كان خصامُه شديدًا، ومالَ عن الحق، واحتال في رده وإبطاله، وقال الباطلَ والكذبَ. فإنّ النفاق هو إظهار ما يُبطِنُ خلافَه، وهذا المعنى موجود في صاحب هذه الخصال، ويكون نفاقُه في حق مَن حَدَّثه، ووعدَه، وائتمنَه، وخاصمَه، وعاهدَه من الناس، لا أنه منافق في الإسلام فيظهره وهو يبطن الكفر، ومن كانت فيه خصلة من هذه الخصال؛ كان فيه صفة من النفاق حتى يَتْركَها.

  • بيان بعض علامات المنافق للتخويف والتحذير من الوقوع فيها.
  • المقصود من الحديث: أن هذه الخصالَ خصالُ نفاق، وصاحبُها شبيهٌ بالمنافقين في هذه الخصال، ومتخلِّق بأخلاقهم، لا أنه منافق يظهر الإسلام وهو يبطن الكفر، وقيل هذا محمول على من غَلَبت عليه هذه الخصال وتهاونَ بها، واستخفَّ بأمرها؛ فإن من كان كذلك كان فاسد الاعتقاد غالبًا.
  • قال الغزالي: أصل الديانة منحصر في ثلاث: القول، والفعل، والنية، فنبَّه على فساد القول بالكذب، وعلى فساد الفعل بالخيانة، وعلى فساد النية بالخُلْف؛ لأن خُلْفَ الوعد لا يقدح إلا إذا كان العزم عليه مقارنًا للوعد، أما لو كان عازمًا ثم عرض له مانع أو بدا له رأيٌ فهذا لم توجد منه صورة النفاق.
  • النفاق نوعان: نفاق اعتقاديٌّ يُخرِجُ صاحبَه عن الإيمان، وهو إظهار الإسلام وإخفاء الكفر، ونفاق عَمَلِيٌّ، وهو التشبُّه بالمنافقين في أخلاقهم، وهذا لا يُخرِجُ صاحبَه عن الإيمان، إلا أنه كبيرة من الكبائر.
  • قال ابن حجر: وقد أجمع العلماء على أن من كان مُصدِّقًا بقلبه ولسانه وفعل هذه الخصال لا يُحكَم عليه بكفر، ولا هو مُنافق يخلد في النار.
  • قال النووي: وقال جماعة من العلماء: المراد به المنافقون الذين كانوا في زمن النبي صلى الله عليه وسلم فحدَّثوا بإيمانهم، وكذَّبوا، واؤتمنوا على دينهم فخانوا، ووعدوا في أمر الدين ونصره فأخلفوا، وفَجَروا في خصوماتهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید