حدیث

”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحپہلی حدیث کو مسلم نے اور دوسری حدیث کو احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «البِرُّ: حُسْنُ الخُلُقِ، وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ». وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ البِرِّ وَالإِثْمِ»، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، البِرُّ: مَا اطْمَأَنَّتْ إلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إلَيْهِ القَلْبُ، وَالإِثْمُ: مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ».

ترجمہ

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“ وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟‘‘ میں نے کہا : جی ہاں۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے دل سے پوچھ لو۔ نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل میں کوئی کھٹک نہ ہو۔ اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور دل میں اس کی بابت تردد ہو، اگرچہ لوگ تجھے (اس کے جواز کا) فتوی دے دیں اور تجھے جائز بتاتے رہیں۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے نیکی اور گناہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ سب سے بڑی نیکی حسن اخلاق ہے۔ اللہ کے ساتھ حسن اخلاق یہ ہے کہ تقوی اختیار کیا جائے اور مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق یہ ہے کہ ان کی اذیتوں کو برداشت کیا جائے، غصہ کم کیا جائے، ہنس کر ملا جائے، اچھی بات کی جائے، صلہ رحمی کی جائے، بات مانی جائے، لطف آمیز برتاؤ کیا جائے، حسن سلوک کے ساتھ زندگی گزاری جائے اور اچھی صحبت رکھی جائے۔ نیکی وہ ہے، جس سے دل اور نفس مطمئن ہو۔ جب کہ گناہ ایسی مشتبہ چيز ہے، جو دل میں کھٹکے، اس سے دل مطمئن نہ ہو، بار بار یہ شک اور اندیشہ دل میں آتا رہے کہ کہیں یہ گناہ تو نہیں ہے اور آپ اسے اچھے، نیک اور کامل لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرنا چاہیں۔ کیوں کہ فطری طور پر انسان کا نفس یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی اچھی باتوں کو ہی جانیں۔ لہذا اگر آپ کسی بات سے لوگوں کی آگاہی کو ناپسند کر رہے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گناہ ہے اور اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔ لوگ جواز کا فتوی دے بھی دیں، تو ان کے فتوے کو قبول مت کرو، جب تک تمھارے دل میں شک و شبہ آتا رہے۔ کیوں کہ فتوے سے شبہ دور نہيں ہوتا، جب تک شبہ صحیح ہو اور فتوی دینے والا بلا علم فتوی دیتا ہو۔ لیکن اگر فتوی شرعی دلیل پر مبنی ہو، تو فتوی پوچھنے والے پر اسے ماننا ضروری ہوگا، خواہ اس کی طبیعت مطمئن ہو یا نہ ہو۔

فوائد

  • اعلی اخلاق سے آراستہ ہونے کی ترغیب، کیوں کہ حسن خلق کا شمار نیکی کے بڑے کاموں میں ہوتا ہے۔
  • ایک مومن کو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے میں دقت نہيں ہوتی۔ کیوں کہ وہ اپنے دل میں موجود نور کی وجہ سے حق کو پہچان لیتا ہے اور باطل سے گھٹن محسوس کرتا اور اس کی نکیر کرتا ہے۔
  • گناہ کی ایک علامت یہ ہے کہ دل اس سے بے چین و پریشان رہے اور دل کو یہ گوارہ نہ ہو کہ لوگ اسے جان جائيں۔
  • سندھی کہتے ہیں : یہ بات ان مشتبہ امور کے بارے میں کہی گئی ہے، جن کے بارے میں لوگوں کو پتہ نہيں ہوتا کہ وہ نیکی ہیں یا گناہ۔ ورنہ شریعت میں جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے، وہ نیکی کے کام ہیں اور جن باتوں سے روکا گيا ہے، وہ گناہ کے کام ہيں۔ ان دونوں طرح کے کاموں میں دل سے فتوی پوچھنے اور اس کا اطمینان جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔
  • اس حدیث میں مخاطب فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگ ہيں۔ ایسے الٹے دل والے لوگ نہيں، جو بھلے برے کے اندر فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہيں۔
  • طیبی کہتے ہيں: کسی نے کہا ہے : اس حدیث میں آئے لفظ 'البر' (نیکی) کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہيں۔ کہیں اس کے معنی ایسے کام کے بیان کیے گئے ہيں، جس سے نفس اور دل مطمئن ہو۔ کہیں ایمان کے بتائے گئے ہیں۔ کہيں ایسے عمل کے بتائے گئے ہیں جو آپ کو اللہ کے قریب کر دے۔ جب کہ یہاں حسن اخلاق کے بتائے گئے ہیں اور حسن اخلاق کی تفسیر اذیت کے وقت تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرنے، غصہ کم کرنے، ہنس کر ملنے اور خوش کلامی سے کی گئی ہے۔ ویسے یہ سارے معانی ایک دوسرے سے قریب ہی ہيں۔
تشریح: العربية

أخبر النبي صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم، فقال: إن أعظم خصال البر حسن الخُلُق مع الله بالتقوى، ومع الخَلْق باحتمال الأذى، وقلة الغضب، وبسط الوجه، وطيب الكلام، والصلة والطاعة واللطف والمبرة وحسن العشرة والصحبة. وأن البر ما سكن إليه القلب والنفس. وأما الإثم فما تحرك في النفس من المشتبهات وتردد دون أن ينشرح الصدر له، وحصل في القلب منه الشك، والخوف من كونه ذنبًا، ولم تُرد أن تظهره لكونه قبيحًا لأعيان وأماثل الناس وكُمَّلِهم، وذلك لأن النفس بطبعها تحب اطلاع الناس على خيرها، فإذا كَرِهَت الاطلاع على بعض أفعالها فهو إثم لا خير فيه؛ وإن أفتاك الناس فلا تأخذ بفتواهم ما دامت علامة الشبهة تتردد في نفسك فإن الفتوى لا تزيل الشبهة ما دامت الشبهة صحيحة وكان المفتي يفتي بغير علم؛ أما إذا كانت الفتوى بناء على دليل شرعي فالواجب على المستفتي الرُّجوعُ إليه، وإنْ لم ينشرح له صدرُه.

  • الحثُّ على مكارم الأخلاق؛ لأنّ حسن الخلق من أعظم خصال البر.
  • الحق والباطل لا يلتبس أمرُهما على المؤمن، بل يعرف الحق بالنور الذي في قلبه، وينفر عن الباطل فينكره.
  • من علامات الإثم قلق القلب واضطرابه، وكراهة اطلاع الناس عليه.
  • قال السندي: هذا في المشتبهات من الأمور التي لا يعلم الناس فيها بتعيين أحد الطرفين؛ وإلا فالمأمور به في الشرع من غير ظهور دليل فيه على خلاف ذلك من البر، والمنهي عنه كذلك من الإثم، ولا حاجة فيهما إلى استفتاء القلب وطمأنينته.
  • المخاطَب في الحديث أصحاب الفطرة السليمة، لا أصحاب القلوب المنكوسة التي لا تعرف معروفًا ولا تنكر منكرًا إلا ما أُشرِبتْ من هواها.
  • قال الطيبي: قيل فُسِّرَ البر في الحديث بمعان شتى، ففسَّره في موضع بما اطمأنت إليه النفس واطمأن إليه القلب، وفسره في موضع بالإيمان، وفي موضع بما يقربك إلى الله، وهنا بحسن الخلق، وفسر حسن الخلق: باحتمال الأذى وقلة الغضب وبسط الوجه وطيب الكلام، وكلها متقاربة في المعنى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید