حدیث

جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عكيم رضي الله عنه مرفوعاً: «مَنْ تَعَلَّقَ شيئا وُكِلَ إليه».

ترجمہ

عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔

تشریح

جو اپنے دل یا اپنے عمل یا پھر دونوں ہی کے ساتھ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے حصولِ منفعت یا دفعِ مضرت کی امید لگائی، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے سپرد کر دیتا ہے جس سے اس نے تعلق جوڑا ہو۔ پس جس نے اللہ سے ناطہ جوڑا، اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے اور ہر مشکل کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہے اور جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔

فوائد

  • اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے لو لگانے کی ممانعت۔
  • تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا واجب ہونا۔
  • شرک کے نقصان اور اس کے برے انجام کا بیان۔
  • انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کے پاس عمل ہوتا ہے۔
  • عمل کا اچھا یا برا نتیجہ عامل کے اعتبارسے نکلتا ہے۔
  • اس شخص کی نامرادی، جو اللہ سے روگردانی کرے اور کسی اور سے نفع طلب کرے۔
تشریح: العربية

من التفت بقلبه أو فعله أو بهما جميعا إلى شيء يرجو منه النفع أو دفع الضر وكله الله إلى ذلك الشيء الذي تعلَّقه، فمن تعلَّق بالله كفاه ويسَّر له كل عسير، ومن تعلق بغيره وكله الله إلى ذلك الشيء وخذله.

  • النهي عن التعلق بغير الله -تعالى-.
  • وجوب التعلق بالله في جميع الأمور.
  • بيان مضرة الشرك وسوء عاقبته.
  • أن الجزاء من جنس العمل.
  • أن نتيجة العمل ترجع إلى العامل خيرا أو شرا.
  • خذلان من انصرف عن الله وطلب النفع من غيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید