ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَ، فَرُبَّ مُبَلِّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ».
ترجمہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ (اور خوش) رکھے، جس نے مجھ سے کوئی بات سنی، پھر اس نے اسے جیسے مجھ سے سنا تھا ہو بہو ویسے ہی دوسروں تک پہنچا دیا، کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات (حدیث) پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو سمجھنے والے ہوتے ہیں“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا میں تازگی و سرسبزی اور آخرت میں سرسبزی وشادابی اور نعمتوں کے حصول کی دعا ہر اس شخص کے لیے فرمائی ہے، جو آپ کی حدیث سنے، اسے یاد رکھے اور دوسروں کو پہنچا دے۔ کیوں کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ناقل حدیث کے مقابلے میں اس سے اخذ کرنے والا ہی کہیں زیادہ یاد رکھنے والا، سمجھنے والا اور استنباط کی صلاحیت رکھنے والا ہوتا ہے۔ ایسے میں پہلا شخص حفظ ونقل کا کام بہتر انداز سے کرتا ہے اور دوسرا فہم واستنباط کا کام بہتر طریقے سے کرتا ہے۔
فوائد
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو یاد کرنے اور اسے لوگوں کو پہنچانے کی ترغیب۔
- اہلِ حدیث اور طلب حدیث کے مقام ومرتبہ کا بیان۔
- ان علما کی فضیلت جو استنباط اور فہم کی صلاحیت رکھتے ہيں۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت، جنھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث سنی اور اسے ہم تک پہنچایا۔
- مناوی کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی حدیث کے لیے فقیہ ہونا شرط نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط یاد رکھنا ہے۔ فہم وتدبر کا کام فقیہ کا ہے۔
- ابن عیینہ کہتے ہیں: طالب حدیث کے چہرے سے ہمیشہ تازگی جھلکتی ہے۔
- محدثین کے یہاں حفظ کی دو قسمیں ہیں۔ حفظ قلب وصدر اور حفظ کتاب وسطر۔ دونوں اس حدیث میں کی گئی دعا میں شامل ہیں۔
- لوگوں کی سمجھ مختلف ہوتی ہے۔ کیوں کہ بہت سے پہنچائے گئے لوگ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں اور بہت سے فقہ کے حامل لوگ فقیہ نہیں ہوا کرتے۔
تشریح: العربية
دَعَا النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالنَّضَارة والبَهْجَة والحُسْن في الدنيا، وأنْ يُوصله الله إلى نَضْرَة الجنة ونعيمها ونَضَارتها في الآخرة؛ لمن سمع حديثه فحَفِظَه حتى يُبلِّغَه لغيره، فربما يكون المنقول له الحديث أَوعى وأفقه وأقدر على الاستنباط من ناقِل الحديث، فيكون الأول يُتْقِنُ الحفظ والنقل، ويكون الثاني يتقن الفهم والاستنباط.
- الحث على حفظ السنة النبوية، وتبليغها للناس.
- بيان فضل أهل الحديث، وشَرَف طلبه.
- فضل العلماء، الذين هم أهل الاستنباط والفهم.
- فضل الصحابة رضوان الله عليهم، فهم من سمعوا حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم وبَلَّغوه لنا.
- قال المناوي: بَيَّنَ به أنَّ راوي الحديث ليس الفقه مِن شَرْطِه، إنما شَرْطُه الحفظ، وعلى الفقيه التَّفَهُّم والتدبُّر.
- قال ابن عيينة: ما من أحد يطلب الحديث إلا وفي وجهه نَضْرة لهذا الحديث.
- الحِفْظ عند المُحدِّثين على نوعين: حِفْظ قَلْب وصَدْر، وحِفظ كتاب وسَطْر، وكلاهما يشمله الدعاء في الحديث.
- فهوم الناس مُتَفَاوِتَة، فرُبّ مبلغ أوعى من سامع، ورب حامل فقه ليس بفقيه.