حدیث

ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر ـ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن محمد بن زيد: أن نَاسًا قالوا لجده عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : إنا ندخل على سَلاطِينِنَا فنقول لهم بخلاف ما نتكلم إذا خرجنا من عندهم، قال: كنا نَعُدُّ هذا نفاقا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم .

ترجمہ

محمد بن زيد بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان کے دادا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔

تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئےاورکہا :جب ہم لوگ اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے کوئی بات کہتے ہيں اور جب ان کے پاس سے باہر نکلتے ہيں تو اس کے برعکس بات کہتے ہيں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق سمجھتے تھے۔ايسا اس ليے کہ ان لوگوں نے گفتگو ميں جھوٹ بولا اور خير خواہی کرنے کے بجائےخيانت کی۔ لہٰذا امراء، وزيروں، سلاطين اور بادشاہوں کے پاس آنے والے شخص پر واجب ہےکہ وہ حقيقت بيانی سے کام لے۔

تشریح: العربية

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن أناسًا جاءوا إليه وقالوا: إننا ندخل على سلاطيننا فنقول لهم قولاً ولكن إذا خرجنا من عندهم قلنا بخلافه، فقال: كنا نعد ذلك نفاقاً على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ، وذلك لأنهم حدثوا فكذبوا وخانوا ما نصحوا، فالواجب على من دخل على السلاطين من الأمراء والوزراء والرؤساء والملوك الواجب عليه أن يتكلم بالأمر على حقيقته.

  • الصدق بحضرة الناس وغيابهم هو من صفات المؤمنين.
  • من أنواع النفاق التكلم بكلام أمام الناس ومخالفته عند غيبتهم.
  • محاولة التقرب إلى الناس بالكذب سبب للإفساد بين الناس.
  • المسلم يبذل النصيحة للحاكم، ولا ينافق له لأجل منفعة دنيوية.
  • الرياء معناه العمل الذي ظاهره طاعة الله، وحقيقته صرفه لغيره -تعالى-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید