ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي بَرْزَةَ نَضْلَةَ بن عبيد الأَسلمي رضي الله عنه قال: بينما جاريةٌ على ناقة عليها بعض مَتَاعِ القوم، إذ بَصُرَتْ بالنبي صلى الله عليه وسلم وتَضَايَقَ بهم الجبل فقالت: حَلْ، اللهم الْعَنْهَا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تُصَاحِبْنَا ناقةٌ عليها لَعْنَةٌ».
ترجمہ
ابو برزہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ایک نوجوان لڑکی اونٹنی پر سوار تھی، اس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا، اچانک اس نے نبی ﷺ کی طرف دیکھا، اس وقت لوگوں سے پہاڑ تنگ پڑ گیا تھا۔ چنانچہ اس لڑکی نے کہا:حَلْ (اونٹ کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے کلمۂ زجر) اے اللہ! اس پر لعنت فرما! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے، جس پر لعنت کی گئی ہو“۔
تشریح
ایک کم سن دوشیزہ ایک اونٹنی پر سوار تھی، جس پر کچھ ساز و سامان تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو دیکھا، جب کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں کی وجہ سے پہاڑ تنگ ہو گیا تھا، تو اس نے اونٹنی کی رفتار کو تیز کرنا چاہا۔ اس نے اونٹنی سے کہا: حَلْ (اونٹ کو تیز رفتار کرنے کے لئے کلمۂ زجر) تاکہ تیز رفتاری سے چلنے لگے، پھر اس پر لعنت کر ڈالی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔
تشریح: العربية
كانت فتاة صغيرة السن على ناقة عليها بعض الأمتعة والأغراض، فرأت النبي صلى الله عليه وسلم ، وقد تضايق بالقوم الذين فيهم النبي صلى الله عليه وسلم الجبل، فأرادت أن تسرع الناقة، فقالت لها: حل -وهي كلمة زجر للإبل- لتسرع في السير، ثم لعنتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : لا تسير معنا ناقة عليها لعنة.
- التحذير من اللعن.
- تجنب مصاحبة المبتدعين والفاسقين،لأنهم محل اللعنات.