حدیث

تمہارے لئے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أُحِلَّتْ لكم مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فأما الميتتان: فَالْجَرَادُ والْحُوتُ، وأما الدَّمَانِ: فالكبد والطحال».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال کئے گئے ہیں۔ رہے دو مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہیں، جب کہ دو قسم کے خون جگر اور تلی ہیں“۔

تشریح

ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک فقہی حکم شرعی بیان کررہے ہیں جس كا تعلق بعض اشیاء کے کھانے كى حلت سے ہے۔ ان میں سے ایک تو مردہ ٹڈی اور مردہ مچھلی کےکھانے کو حلال قرار دینے کے بارے میں ہے۔ جبکہ دوسرا: دو قسم کے خون کے کھانے کے جائز ہونے سے متعلق ہے اور وہ دونوں جگر اور تلی ہیں۔ یہ دونوں حکم مردار اور خون کھانے کی حرمت سے مستثنی ہیں۔

تشریح: العربية

يخبر ابن عمر بحكم شرعي فقهي يتعلق بحل أكل بعض الأشياء الأول: تحليل أكل ميتة الجراد والحوت، والثاني: حل أكل نوعين من الدماء وهما: الكبد والطحال، وهذان الحكمان مستثنيان من تحريم أكل الميتة والدم.

  • الحديث دليل على تحريم الميتة، واستثني منها الجراد والسمك، فكل منهما حلال.
  • أن ميتة الجراد والحوت طاهرة وحلال.
  • الكبد والطحال حلالان وطاهران.
  • الحديث دليل على أن السمك والجراد إذا ماتا في ماء فإنه لا ينجس.
  • في الحديث دليل على تحريم الدم، وهذا مجمع عليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید