ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن أبي بكر بن حزم، أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم لعَمْرو بن حَزْم: «أن لا يَمَسَّ القرآن إلا طَاهر».
ترجمہ
عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“۔
تشریح
حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا“ یعنی عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جب نجران کے قاضی تھے تو آپ ﷺ نے انہیں ایک تفصیلی مکتوب لکھ کر دیا تھا جس میں بہت سے احکامِ شریعت جیسے فرائض و صدقات اور دیات وغیرہ کا بیان تھا۔ یہ ایک مشہور مکتوب ہے جسے امت نے قبول کیا ہے۔ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“ یہاں چھونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پاک کو بغیر کسی آڑ کے براہ راست ہاتھ لگائے۔ اس بنیاد پر اگر آدمی کسی ایسی آڑ کے پیچھے سے اسے اٹھائے جو اس سے الگ ہو مثلاً وہ اسے کسی تھیلی یا بیگ میں اٹھائے، یا لکڑی وغیرہ سے اس کے اوراق پلٹے تو یہ اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آئے گا کیونکہ اس صورت میں چھونے کا عمل نہیں ہوا ہے۔ یہاں قرآن سے مراد وہ تختیاں، اوراق اور چمڑے وغیرہ ہیں جن پر قرآن لکھا گیا ہے، یہاں قرآن سے مراد کلام نہیں ہے کیونکہ کلام کو چھوا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے۔ ’’سوائے طاہر کے‘‘ طاہر کا لفظ چار معانی میں مشترک ہے: اول: طاہر سے مراد مسلمان ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ ”مشرک تو ہیں ہی ناپاک“۔ دوم: اس سے مراد وہ شخص ہو جو نجاست سے پاک ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے“۔ سوم: اس سے مراد وہ شخص ہے جو جنابت سے پاک ہو۔ چہارم: طاہر سے مراد باوضو شخص ہے۔ اس حدیث میں شریعت کی رو سے طہارت کے ان سبھی معانی کے مراد ہونےکا احتمال ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی دليل يا قرينہ نہیں ہے جس کی بنا پر ہم ان میں سے کسی ایک کو دیگر معانی پر ترجیح دے سکيں۔ چنانچہ اولیٰ یہی ہے کہ اس لفظ کو اس معنی پر محمول کیا جائے جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہے اور وہ حدثِ اصغر سے طاہر شخص ہے۔ کیوں کہ یہ معنی یقینی ہے اور جمہورِ علماء بشمول ائمۂ اربعہ اور ان کے متبعین کے مسلک کے بھی موافق ہے۔ نیز اسی میں احتیاط ہے اور یہی اولی ہے۔
تشریح: العربية
معنى الحديث: "في الكتاب الذي كَتَبَه رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمرو بن حَزْم" أي أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب كتابا لعمرو بن حَزْم عندما كان قاضيا على نجران، كتب له كتابا مُطَوَّلا فيه كثير من أحكام الشريعة، كالفرائض والصدقات والديات، وهو كتاب مشهور تلقته الأُمُّة بالقبول. "أن لا يَمَسَّ القرآن إلا طَاهر" المراد بالمس هنا: أن يُباشره بيده من غير حائل، وبناء عليه: فإن تناوله من وراء حائل مُنفصل عنه كما لو حمله في كِيس أو شنطة أو قَلَّب صفحاته بِعُود ونحوه لم يدخل في النهي لعدم حصول المَسُّ. والمراد بالقرآن هنا: ما كُتب فيه القرآن، كالألواح والأوراق والجلود، وغير ذلك، وليس المراد به الكلام؛ لان الكلام لا يُمَس بل يُسْمَع. و " إلا طَاهر" هذا اللفظ مشتَرَك بين أربعة أمور: الأول: المراد بالطاهر المسلم؛ كما قال تعالى : {إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ}. الثاني: المراد به الطاهرُ من النجاسة؛ كقوله صلى الله عليه وسلم في الهرَّة: "إنَّها ليست بنجس". الثالث: المراد به الطَّاهرُ من الجنابة. الرابع: أنَّ المراد بالطَّاهر المتوضئُ. كل هذه المعاني للطهارة في الشَّرع محْتَمِلَة في المراد من هذا الحديث، وليس لدينا مرجِّح لأحدها على الآخر، فالأولى حَمْلُهَا على ما فهمه الصحابة -رضوان الله عليهم-، وهو المُحْدِث حدثًا أصغر؛ وهو موافق لما ذهب إليه الجمهور، ومنهم الأئمة الأربعة وأتباعهم، وهو الاحتياط والأولى.
- في الحديث تعظيمُ القرآن، وأنَّه يجبُ احترامه، فلا يجوزُ مَسُّ المصحف بنجاسة، ولا يُجعَل في مكانٍ لا يليق؛ إمَّا لنجاستِهِ، وإمَّا بجانب صور، أو تعلق آياته بجانب صور، أو يُتْلَى في مكانِ لهوٍ أو عند الأغاني، أو عند أحدٍ يشرب الدخان، أو في مكان لغَطٍ وأصواتٍ، ونحو ذلك ممَّا يعرِّض كتاب الله -تعالى- للإهانة.
- وجوب الوضوء عند إرادة مَسِّ المصحف.
- ظاهر عموم الحديث شامل للصغير المميز، والراجح خلاف ذلك لوجود المشقة في إلزامهم بالوضوء، ولأنهم غير مُكَلَّفين، فأُبيح لهم مَسُّه لحاجة التعليم.