ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي زيد عمرو بن أخطب الأنصاري رضي الله عنه : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر، وصعد المنبر، فخطبنا حتى حضرت الظهر، فنزل فصلى، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى حضرت العصر، ثم نزل فصلى، ثم صعد المنبر فخطبنا حتى غربت الشمس، فأخبرنا بما كان وبما هو كائن، فأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا.
ترجمہ
ابوزید عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو ہمیں آپﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔
تشریح
صحابیٔ رسول بتارہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن فجر پڑھی اور منبر پر چڑھ کر ظہر کی اذان تک لوگوں کو خطبہ دیا، پھر اتر کر ظہر کی نماز پڑھائی، پھر دوبار منبر پر چڑھے اور عصر کی اذان تک خطبہ دیا، پھر اتر کر عصر پڑھی، پھر منبر پر چڑھ کر سورج غروب ہونے تک خطبہ دیا یعنی ایک دن پورا فجر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک خطبہ دیا۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ماضی اور مستقبل کی غیب کی خبریں بتائیں۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو وہ ساری باتیں بتائیں، صحابہ میں اس دن سب سے زیادہ نبی ﷺ کی کہی باتوں کو جاننے والے وہ تھے جنہوں نے اسے یاد کرکے اپنے ذہن میں راسخ کرلیا۔
تشریح: العربية
يخبر الصحابي عمرو بن أخطب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى الفجر ذات يوم، وصعد المنبر وخطب الناس حتى أذن الظهر، ثم نزل فصلى الظهر، ثم عاد فصعد المنبر وخطب حتى أذن العصر، فنزل وصلى العصر، ثم صعد المنبر فخطب حتى غابت الشمس، يعني بذلك أنه خطب يومًا كاملًا من صلاة الفجر إلى غروب الشمس، أعلمه الله عز وجل في ذلك اليوم شيئا من علوم الغيب الماضية، ومن الغيوب المستقبلة، وأخبر بها صلى الله عليه وسلم أصحابه، فأعلمهم بما قال ذلك اليوم هو من حفظ ورسخ ذلك في ذهنه.
- شدة حرص رسول الله -صلى الله عليه وسلم- على تعليم أمته أمور دينهم.
- شهادة من الصحابة الكرام -رضي الله عنهم- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بلغ الرسالة وأدى الأمانة، ونصح الأمة.
- تفاوت الناس في الحفظ والفهم.
- قوة تحمل النبي -صلى الله عليه وسلم-.