ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كنا إذا نَزَلْنا مَنْزِلًا، لا نُسَبِّحَ حتى نَحُلَّ الرِّحال.
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے، تو اس وقت تک نماز نہ پڑھتے، جب تک کہ کجاؤں کو نہ اتار دیتے۔
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم کا یہ معمول تھا کہ جب کبھی سفر کرتے اور کسی مقام پر آرام وغیرہ کے لیے رکتے یا اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے،تو نفل نماز کی ادائیگی کے لیے عجلت نہ کرتے، باوجود یہ کہ انھیں نماز سے دلی لگاؤ تھا، تاآں کہ وہ اپنے مال بردار چوپایوں سے سامان سفر اتار کر انھیں راحت بہم نہ پہنچادیتے۔ اس طرح ہنگامی انداز میں ان سواریوں سے سامان سفر اتاردیتے؛ تاکہ انھیں بوجھ سے ہلکا کردیں اور ان کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ کریں۔
تشریح: العربية
يخبر أنس رضي الله عنه أن الصحابة رضي الله عنهم كانوا إذا سافروا، ثم وقفوا في مكان للراحة ونحوها أو وصلوا لوجهتهم، لم يبادروا لصلاة النافلة -مع حرصهم على الصلاة- حتى يريحوا الدواب التي تحمل أمتعة المسافرين، وذلك بسرعة إنزال الأمتعة عنها، تخفيفًا عنها ورحمةً بها.
- استحباب إراحة البهائم بالحط عنها قبل الاشتغال بعبادة أو غيرها لما لحقها من التعب.
- استحباب التنفل المطلق في السفر.
- حرص الصحابة على تنفيذ وصايا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عمومًا، ومنها الوصية بالإحسان إلى الدواب.
- يشرع للمصلي ألا يدخل الصلاة, وباله مشغول بغيرها, حتى يصفي ذهنه من الشواغل.
- حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على الرفق بالحيوان.