حدیث

کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فسق اور کفر کی تہمت نہ لگائے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ آئے گی"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالفُسُوقِ، وَلاَ يَرْمِيهِ بِالكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ».

ترجمہ

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: "کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فسق اور کفر کی تہمت نہ لگائے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ آئے گی"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کوئی کسی سے یہ کہے کہ تم فاسق ہو یا تم کافر ہو۔ کیوں کہ سامنے والا شخص اگر فاسق یا کافر نہ ہو، تو کہنے والا ہی اس صفت کا حق دار ہو جائے گا اور اس کی کہی ہوئی بات اسی کی جانب لوٹ جائے گی۔ البتہ اگر اس کی کہی ہوئی بات درست ہو تو کہنے والے کا کوئی نقصان نہيں ہوگا کیوں کہ اس کی کہی ہوئی بات سچی ہے۔

فوائد

  • کسی شرعی جواز کے بغیر کسی کو کافر یا فاسق کہنا حرام ہے۔
  • لوگوں کے بارے میں احکام صادر کرنے سے پہلے ان کے بارے میں تفتیش ضروری ہے۔
  • ابن دقیق عید کہتے ہيں: کسی شخص کو، جو سچ مچ کافر نہ ہو، کافر کہنے والے کے لیے یہ بہت بڑی وعید ہے۔
  • ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: کسی کو کافر یا فاسق کہنے سے اس کے فاسق یا کافر نہ ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ایسا کہنے کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوگا۔ دراصل اس کی تھوڑی سی تفصیل ہے۔ اگر سامنے والے کی خیرخواہی یا اس کا حال بتاکر کسی اور کی خیرخواہی کرنا مقصد ہو، تو جائز ہے۔ اگر عار دلانا، بدنام کرنا اور تکلیف دینا مقصد ہو، تو جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ حکم پردہ پوشی کرنے، تعلیم دینے اور سمجھانے بجھانے کا ہے اور یہ کام نرمی سے ہو جائے، تو سختی سے کرنا جائز نہیں ہے۔ سختی کرنے سے کبھی کبھی انسان بھڑک جاتا ہے اور اصرار کرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگوں کی طبیعت میں انانیت ہوتی ہے، جو خاص طور سے اس وقت جاگ اٹھتی ہے، جب بتانے والا سامنے والے سے کم مقام و مرتبے والا ہو۔
تشریح: العربية

حَذَّرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّ مَن قال لآخر: أنت فاسق، أو: أنت كافر، فإنْ كان ليس كما قال، كان هو المُستَحِق للوصف المذكور ورَجَعَ عليه قولُه، وأما إذا كان كما قال لم يرجع عليه شيء؛ لكونه صدق فيما قال.

  • تحريم رمي الناس بالكفر أو الفسق، بغير مُسَوِّغ شرعي.
  • وجوب التثبُّت في إصدار الأحكام على الناس.
  • قال ابن دقيق العيد: وهذا وعيد عظيم لمن أكفر أحدًا من المسلمين وليس كذلك، وهي ورطة عظيمة.
  • قال ابن حجر العسقلاني: ولكن لا يلزم من كونه لا يصير بذلك فاسقًا ولا كافرًا أن لا يكون آثمًا في صورة قوله له: أنت فاسق، بل في هذه الصورة تفصيل: إن قَصَدَ نُصْحَه أو نُصْحَ غيرِه بِبَيان حاله جاز، وإن قَصَدَ تَعْيِيْرَه وشُهرَتَه بذلك ومَحْضَ أذاه لم يجز؛ لأنه مأمور بالستر عليه وتعليمه وعِظَتِه بالحسنى، فمهما أمكنه ذلك بالرفق لا يجوز له أن يفعله بالعُنْف؛ لأنه قد يكون سببًا لإغرائه وإصراره على ذلك الفعل كما في طَبْعِ كثير من الناس من الأَنَفَة، ولا سيّما إن كان الآمِرُ دونَ المأمورِ في المنزلة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید