ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي علي سويد بن مُقَرِّن رضي الله عنه قال: لقد رَأَيْتُنِي سابع سبعة من بني مُقَرِّن ما لنا خادم إلا واحدة لطمها أصغرنا فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعتقها وفي رواية: «سابع إخوة لي».
ترجمہ
ابو علی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا (يعنی ہم سات بھائی تھے)۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔ ايک روايت میں «سابع إخوة لي» کے الفاظ ہیں۔ يعنی ميں اپنے بھائيوں ميں ساتواں تھا۔
تشریح
سوید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔
تشریح: العربية
يخبر سويد بن مقرن فيقول كنت واحدًا من سَبْعة إخوة من بَني مُقَرِّنٍ كلهم صحابة مهاجرون، لم يشاركهم أحدٌ في ذلك: وهو اجتماع سبعة من الإخوة في الهجرة، وليس لنَا من يقوم على خِدمتنا نحن السَبْعة إلا مملوكة واحدة.، فضَربها أصغرنا على خَدِّها. فأمرنا صلى الله عليه وسلم أن نحررها من العبودية؛ ليكون اعتاقها كفَّارة عن ضَرِبها.
- غلظ تعذيب المملوك والاعتداء عليه.
- وجوب الرفق بالمملوك والإحسان إليه.
- يُندب إعتاق المملوك كَفَّارة عن ضَربه أو تعذيبه.
- مشروعية المبادرة بالحَسنة بعد السيئة، وفي الحديث: "وأَتْبِعِ السَيئة الحسنة تَمْحُها".
- جواز الاشتراك في المملوك للخدمة، ولو كثر عدد المشتركين لكن لا يكلف فوق ما يطيق.
- حرص الإسلام على حقوق العامل وحقوق الإنسان عمومًا.