حدیث

ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «كُتب على ابن آدم نَصِيبُه من الزِنا مُدْرِكُ ذلك لا مَحَالة: العينان زِناهما النَظر، والأُذنان زِناهما الاستماع، واللسان زِناه الكلام، واليَدُ زِناها البَطْش، والرِّجل زِناها الخُطَا، والقلب يَهْوَى ويتمنى، ويُصَدِّق ذلك الفَرْج أو يُكذِّبُه».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب“۔

تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر صورت زنا کرتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ بچائے، پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس کی کئی مثالیں ذکر کیں: ”فالعين زناها النظر“ یعنی جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھے، اگرچہ بغیر شہوت کے ہو اور وہ عورت اس کی محرمات میں سے نہ ہو، تو یہ بھی زنا کی ایک قسم ہے۔ یہ آنکھوں کا زنا ہے۔ ”والأُذنان زِناهما الاستماع“ یعنی انسان کا کسی اجنبی عورت کی گفتگو سن کر اس کی آواز سے لطف اندوز ہونا۔ یہ کانوں کا زنا ہے۔ ”اليد زناها البَطْش“ ہاتھ سے چھونا وغیرہ۔ یہ ہاتھ کا زنا ہے۔ ”والرِجل زناها الخُطا“ یعنی انسان کا فُحش کاموں والی جگہ کی طرف جانا یا عورت کی آواز سننے جانا یا کسی عورت کو دیکھ کر اس کا پیچھا کرنا، یہ سب زنا کی قسمیں ہیں۔ ”والقلب يَهْوَى ويتمنى“ یعنی دل کا عورتوں کی طرف میلان۔ یہ بھی دل کا زنا ہے۔ ”والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه“ یعنی جب انسان شرم گاہ کے ذریعے زنا کرتا ہے-اللہ کی پناہ- تو یہ ان اعضا کے زنا کی تصدیق ہے۔ اگر وہ شرم گاہ کے ذریعے زنا نہ کرے، بلکہ محفوظ رہے، تو یہ ان اعضا کی تکذیب ہے۔ یہ حدیث عورتوں سے بچے رہنے پر دلالت کرتی ہے کہ نہ ان کی آواز سنی جائے، نہ ان کی طرف دیکھا جائے، نہ چُھوا جائے، نہ ان کی طرف جانے کی کوشش کی جائے اور نہ ان کی طرف قلبی میلان کیا جائے۔ یہ سب زنا کی قسمیں ہیں -اللہ کی پناہ- اس لیے عقل مند اور پاک دامن انسان کو ان اعضا سے متعلق ایسی تمام چیزوں سے بچنا چاہیے، جو کسی بھی طرح عورتوں سے تعلق کا سبب بنتی ہیں۔

تشریح: العربية

معنى الحديث أن الإنسان مُدرك للزنا لا محالة إلا من عصمه الله، ثم ذكر النبي صلى الله عليه وسلم أمثلة لذلك: "فالعين زناها النظر" يعني: أن الرَّجُل إذا نظر إلى امرأة ولو لغير شهوة وهي ليست من محارمه فهذا نوع من الزنا وهو زنا العين. "والأُذنان زِناهما الاستماع" أي يستمع الإنسان إلى كلام المرأة ويتلذذ بصوتها، هذا زنا الأذن. "واليد زناها البَطْش" يعني العمل باليد من اللمس وما أشبه ذلك. "والرِجل زناها الخُطا" يعني أن الإنسان يمشي إلى محل الفواحش مثلا أو يسمع إلى صوت امرأة فيمشي إليها أو يرى امرأة، فيتبعها هذا نوع من الزنا. "والقلب يَهْوَى ويتمنى" أي يميل إلى هذا الأمر وهو التعلق بالنساء هذا زنا القلب. "والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه" يعني أنه إذا زنى بالفرج والعياذ بالله، فقد صدق زنا هذه الأعضاء وإن لم يزن بفرجه، بل سَلِم وحفظ نفسه فإن هذا يكون تكذيبا لزنا هذه الأعضاء. فدل ذلك على الحذر من التعلق بالنساء لا بأصواتهن ولا بالرؤية إليهن ولا بمسهن ولا بالسعي إليهن ولا بغواية القلب لهن، كل ذلك من أنواع الزنا -والعياذ بالله-، فليحذر الإنسان العاقل العفيف من أن يكون في هذه الأعضاء شيء يتعلق بالنساء.

  • التوجيه إلى ترك الزنا ودواعيه.
  • حرمة النظر إلى ما في البيت بغير استئذان.
  • الزنا الذي يوجب الحدَّ لا يتحقق إلا بالإيلاج.
  • سماع ما حرَّم الله نوع من أنواع الزنا.
  • النظر إلى ما حرَّم الله نوع من أنواع الزنا.
  • الكلام فيما حرَّم الله نوع من أنواع الزنا.
  • الله يعلم من الأزَل مقادير الناس، ولا يقع شيء مخالفا لعلمه، ولا يتخلف علمه عن معرفة كل شيء.
  • الله أعطى العبد المقْدِرة على رَدْع نفسه عما حرَّمه الله عليه.
  • الزنا لا يختص إطلاقه بالفرج، بل هو شامل لدواعيه من النظر واللمس.
  • الحديث دليل لمعتقد أهل الحق في باب القدر أن العبد لا يخلق فعل نفسه؛ بدليل قوله عليه الصلاة والسلام: "والقلب يهوى ويتمنى ويصدق ذلك الفرج أو يكذبه"؛ فدل هذا أن العبد لو كان خالقا لفعل نفسه لما عجز عن فعل ما يريد مع وجود الطواعية واستحكام الشهوة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید