ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «حُرْمَةُ نساء المجاهدين على القَاعِدِين كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِم، ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى» ثم التفت إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما ظنَّكم؟».
ترجمہ
بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت پیچھے رہ جانے والوں (یعنی جہاد کے لیے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو شخص، مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں کا جانشین (نگران) بنے اور پھر اس کے ساتھ ان کے بارے میں خیانت کرے، تو اس کو قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ایسی حالت میں تمہارا کیا خیال ہے؟
تشریح
بنیادی اصول یہ ہے کہ اجنبی عورت اجنبی مردوں پر حرام ہے۔ لیکن ان مجاہدین کی عورتوں کے بارے میں حرمت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلے ہیں اور اپنی بیویوں کو پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں، اور مقیم لوگوں کو ان پر امین بناکر گئے ہیں۔ لہٰذا ان پر واجب ہے کہ مجاہدین کی بیویوں کی عزتیں پامال کرنے سے ڈریں، نہ ان کے ساتھ تنہائی میں رہیں، نہ ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کوئی بے ہودہ گفتگو کرے، کیوں کہ وہ ان پر اسی طرح حرام ہیں جیسے ان کی اپنی مائیں ان پر حرام ہیں۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے واضح فرمادیا کہ انسان کے اوپر لازم ہے کہ ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے معاملے میں خیانت نہ کرے، نہ تو ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کسی حرام چیز کے ارتکاب کی کوشش کرے۔ اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال کرنے، ان سے ہمدردی و بھلائی کرنے اور ان سے نقصان کو دور کرنے میں کوئی کوتاہی کرے۔ ”ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى“ یعنی جس شخص نے مجاہدین کی عدم موجودگی میں ان کی بیویوں پر جسارت کیا اور ان کی بیویوں کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کیا، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجاہد کو خیانت کرنے والے پر قادر بنا دے گا، چنانچہ وہ مجاہد اس خائن کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے گا اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ”فما ظنكم“ (تو تمہارا کیا خیال ہے؟)یعنی اس مقام پر مجاہد کے اس کی نیکیوں کو لینے کی خواہش اور انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یعنی ان نیکیوں میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ جائے گی، وہ سب لے لے گا۔
تشریح: العربية
الأصل أن المرأة الأجنبية تحرم على غيرها من الرجال الأجانب ويزداد الأمر حُرْمَة في نساء المجاهدين الذين خرجوا للجهاد في سبيل الله تعالى وتركوا نساءهم خلفهم، وائتمنوا المقيمين عليهن. فالواجب عليهم الحذر من أن يقعوا في أعراضهم، لا بخلوة ولا نظر ولا كلام فاحش؛ لأنهن في التحريم كَحُرمة أمهاتهم عليهم، فبين النبي صلى الله عليه وسلم أن على الإنسان أن يقوم بما يجب لهم ولا يخونه فيهم لا بأن ينظر أو يحاول أن يقع في أمر محرم، ولا في أن يُقَصِّر فيما هو مطلوب منه من الرعاية والعناية وإيصال الخير إليهم ودفع الأذى عنهم. "ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى" والمعنى : أن من تجرأ على نساء المجاهدين حال غيبتهم وخانهم في نسائهم، فإن الله تعالى يمكن المجاهد منه يوم القيامة؛ فيأخذ المجاهد من حسنات الخائن ما شاء حتى يرضى وتقرَّ عينه. ثم قال صلى الله عليه وسلم : "فما ظنكم؟" أي: فما تظنون في رغبة المجاهد في أخذ حسناته والاستكثار منها في ذلك المقام؟ أي لا يبقى منها شيء إلا أخذه.
- الحضُّ على التكافل بين المسلمين وحرص كل منهم على سلامة الآخرين.
- التحذير من الخيانة ويشتد ذلك في حقِّ المجاهدين في سبيل الله؛ لأن المجاهدين يقومون بنصرة الدين ويدافعون عن القاعدين، فلا يجوز لقاعد أن يتعرض لنسائهم بوجه من الوجوه مستغلًا غياب الزوج.
- يعاقب المعتدي على نساء المجاهدين بعرض حسناته يوم القيامة على ذلك المجاهد ليأخذ منه ما شاء.
- حِيطة الإسلام على سلامة أمن المجاهدين والغائبين عن أهليهم.
- فيه عِظم فضل المجاهدين وأن الشرع قد حَمى أعراضهم حال غيبتهم وتوعَّد من ينتهكها بأشد العقوبات.
- ثبوت القصاص بين الخلائق يوم القيامة.