ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایک مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور ایک عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے. ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے اور ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ کو دیکھے یا کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو دیکھے۔ حدیث میں وارد عربی لفظ "عورت" سے مراد جسم کا وہ حصہ ہے، جس کے ظاہر ہونے پر حیا محسوس ہو۔ مرد کے جسم کا چھپانے لائق حصہ ناف اور گھٹنوں کے بیچ کا حصہ ہے۔ جب کہ عورت کا پورا جسم اجنبی مردوں کے حق میں شرمگاہ ہے۔ البتہ عورتوں اور محرموں کے سامنے وہ جسم کے ان حصوں کو ظاہر کر سکتی ہے، جو گھر میں کام کرتے وقت عام طور پر ظاہر ہو جایا کرتے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ برہنہ ہو کر ایک کپڑے میں یا ایک چادر کے نیچے رہے یا پھر کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں یا ایک چادر کے نیچے برہنہ ہو کر رہے۔ کیوں کہ یہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چھونے کا سبب بن سکتا ہے اور چھونا بھی دیکھنے کی طرح ممنوع ہے۔ بلکہ اس کی ممانعت کہيں زیادہ سخت ہے، کیوں کہ اس سے کہیں زیادہ بڑے مفاسد سامنے آ سکتے ہیں۔
فوائد
- کسى کے شرمگاہ کو دیکھنے کی ممانعت۔ لیکن میاں بیوی اس سے مستثنی ہيں۔
- مذہبِ اسلام، معاشرے کی پاکیزگی اور بے حیائی کی طرف لے جانے والے تمام راستوں کی بندش کا خواہاں ہے۔
- بہ وقت ضرورت جیسے علاج وغیرہ کے لیے کسى کے شرمگاہ کو دیکھنا جائز ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ بلا شہوت ہو۔
- ایک مسلمان کو جہاں اپنى شرمگاہ کا پردہ کرنے کا حکم ہے، وہیں دوسرے کے جسم کی شرمگاہ کھل جانے پر نظر نیچی کر لینے کا حکم ہے۔
- ممانعت بطور خاص مرد کے ساتھ مرد اور عورت کے ساتھ عورت پر اس لیے مرکوز ہے کہ یہاں نظر پڑ جانے اور شرمگاہ کھل جانے کا امکان زیادہ رہتا ہے۔
تشریح: العربية
نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن يَنظُرَ الرجلُ إلى عورة الرجل، أو تنظرَ المرأةُ إلى عورة المرأة. والعورة: هي كل ما يُسْتَحْيَا منه إذا ظَهَر، وعورة الرجل هي ما بين سُرَّتِه ورُكبتِه، والمرأةُ كلُّها عورةٌ بالنسبة للرجال الأجانب، وبالنسبة للنساء ولمحارمِها فإنها تُظْهِرُ ما يَظْهَر عادةً عند عملِها في البيت. ونَهى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن أنْ يَخْلُوَ الرجلُ إلى الرجل في ثوبٍ واحدٍ أو تحت غطاء واحدٍ مُتَجَرِّدَيْن، وعن أنْ تَخْلُوَ المرأةُ إلى المرأة في ثوب واحد أو تحت غطاء واحد مُتَجَرِّدَتين؛ لأن ذلك قد يُؤدِّي إلى لَمْسِ كلٍّ منهما عورةَ صاحبه، ولمسُها مَنهيٌّ عنه كالنظر إليها، بل هو أشد في النهي؛ لما يؤدي ذلك إلى مفاسد أكبر.
- النهي عن النظر إلى العورات ماعدا الزوج وزوجته.
- حرص الإسلام على طهارة المجتمع وإغلاق الطرق المؤدِّية للفواحش.
- جواز النظر إلى العورة إذا دعت الحاجة إلى ذلك كالتَّطَبُّب ونحوه، على أن يكون بغير شهوة.
- المسلم مأمور بستر عورته وغضِّ بصره عن عورة غيره.
- خُصَّ النهي بالرجال مع الرجال والنساء مع النساء؛ لأنه أدعى للنظر وكشف العورات.