ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن مسروق، قال: دخَلْنَا على عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فقال: يا أيها الناس، من عَلِم شيئا فَلْيَقُلْ به، ومن لم يَعْلَم، فَلْيَقُلْ: الله أعلم، فإن من العلم أن يقول لما لا يَعْلَم: الله أعلم. قال الله تعالى لنبيه صلى الله عليه وسلم : (قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين).
ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ ’اللہُ أعْلَمْ‘ (اللہ ہی کو زیادہ علم ہے) کیوں کہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے بھی کہہ دیا تھا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ ”کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں“۔
تشریح
حدیث کا مفہوم: جب کسی سے کسی ایسی بات کے بارے میں پوچھا جائے جس کا اسے علم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اسے نہ چھپائے۔ تاہم اگر اس سے کسی ایسی شے کے بارے میں پوچھ لیا جائے جسے وہ نہ جانتا ہو تو پھریوں کہے کہ : اللہ اعلم (اللہ بہتر جانتا ہے) اور کھینچ تان کر جواب دینے کی کوشش نہ کرے۔ ”کیونکہ انسان جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں اس کا یہ کہنا کہ: اللہ بہتر جانتا ہے بھی علم ہی ہے“ کیوں کہ جس شخص کو علم نہ ہو اور وہ کہہ دے کہ وہ نہیں جانتا تو درحقیقت وہی عالم ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے اپنی قدر و منزلت کا علم ہے اور اسے پتہ ہے کہ اس بات سے وہ ناواقف ہے۔ چنانچہ جس بات کو وہ نہ جانتا ہوتا اس کے بارے میں وہ کہہ دیتا ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ صحیح مسلم میں یہ الفاظ ہیں ”فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: لِمَا لَا يَعْلَمُ: اللهُ أَعْلَمُ“ کہ تم میں سے اگر کوئی شخص کوئی بات نہ جانتا ہو تو اس کا اللہ اعلم کہنا اس کے علم کے لیے زیادہ بہتر و درست اور اس کے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے اس قول سے استدلال کیا کہ: ﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں جو وحی لے کر آیا ہوں اس پر میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں بلکہ میں تو تمہاری خیر کی طرف راہنمائی کررہا ہوں اور تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں۔ ﴿وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ یعنی میں تمہیں مشقت میں مبتلا کرنے والا یا بغیر علم کے بات کرنے والا نہیں ہوں۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ انسان کے لیے صرف اسی صورت میں فتوی دینا جائز ہے جس میں فتوی دینے کی اس میں صلاحیت ہو۔ اگر اللہ تعالی کا ارادہ یہ ہوا کہ وہ لوگوں کو فتوے دے اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرے تو ایسا ہو جائے گا اور اگر اللہ کا یہ ارادہ نہ ہوا تو فتوی دینے کی جراءت کرنے سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ ایسا کرنا الٹا اس کے لئے دنیا و آخرت میں وبال بن جائے گا۔
تشریح: العربية
معنى الحديث: أن الإنسان إذا سُئل عن شيء يعلمه، فليبينه للناس ولا يكتمه، وأما إذا سئل عن شيء لا يعلمه، فليقل: الله أعلم ولا يتكلف الجواب. "فإن من العلم أن يقول لِمَا لا يَعْلَم: الله أعلم" أي أن من العلم أن يقول الإنسان لما لا يعلم : "الله أعلم"؛ لأن الذي يقول لا أعلم وهو لا يعلم هو العالم حقيقة هو الذي علم قَدْر نفسه وعلم منزلته وأنه جاهل فيقول لما لا يعرف الله أعلم. وعند مسلم بلفظ: "فإنه أعلم لأحدكم أن يقول لما لا يعلم: الله أعلم". والمعنى: أنه أحسن لعلمه وأتم وأنفع له أن يقول لما لا يعلمه: "الله أعلم". ثم استدل ابن مسعود رضي الله عنه بقوله تعالى : (قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين) أي لا أسألكم على ما جئت به من الوحي أجرا تعطونني إياه وإنما أدلكم على الخير وأدعوكم إلى الله عز وجل . (وما أنا من المتكلفين) أي من الشاقين عليكم أو القائلين بلا علم. فالحاصل: أنه لا يجوز للإنسان أن يفتي إلا حيث جازت له الفتوى، وإن كان الله تعالى قد أراد أن يكون إمامًا للناس يفتيهم ويهديهم إلى صراط مستقيم فإنه سيكون وإن كان الله لم يرد ذلك فلن يفيده تجرأه في الفتوى ويكون ذلك وبالًا عليه في الدنيا والآخرة.
- عدم التكلف في المسائل العلمية، كأن يسأل عن شيء غير واضح له فيتحمل جوابا له، وربما أبعد عن الحقيقة في بيانه.
- لا ينقص من قَدْرِ العالم أن يجهل بعض مسائل العلم، ويعلن عدم معرفته بها.
- الاقتداء برسول الله -صلى الله عليه وسلم- في عدم التَّكَلف مطلقًا.