حدیث

رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يَنْتَعِلَ الرَّجُل قائمًا.

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔

تشریح

اس حدیث میں کھڑے ہو کر جوتا پہننے کی ممانعت ہے کیونکہ بیٹھ کر اسے پہننا زیادہ آسان اور ممکن ہے۔ یہ حکم اس صورت کے ساتھ خاص ہے جب جوتے کو پاؤں میں ڈالنے کے لیے ہاتھ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ انسان اگر کھڑا ہو کر جوتا پہنے اور جوتا ایسا ہو کہ اسے (پاؤں میں) ڈالنے کے لیے ہاتھ کے استعمال کی ضرورت ہو تو امکان ہے کہ جب وہ جوتا درست کرنے کے لئے اپنا پاؤں اٹھائے تو گر جائے۔ جب کہ آج کل کے معروف جوتوں کو کھڑے ہونے کی حالت میں پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ ممانعت کے دائرے میں نہیں آتے کیونکہ ہمارے موجودہ جوتوں کو بیٹھے بغیر آسانی سے اتارا اور پہنا جا سکتا ہے۔ اس حکم میں مرد و عورت کے مابین کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ شرعی احکامات مرد وزن کے مابین کوئی فرق نہیں کرتے سوائے اس کے کہ کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو تخصیص پر دلالت کرے۔ تاہم حدیث میں بطور خاص مرد کا ذکر اس لئے ہے کیونکہ عورت کی بنسبت اکثر مرد ہی باہر نکلتے ہیں اس لئے خاص طور پر انہیں کا ذکر کیا۔

تشریح: العربية

هذا الحديث فيه النهي عن لبُس النعال قائما؛ لأن لبُسها وهو قاعد أسهل وأمكن، وهذا الحكم مختص فيما إذا كان النَّعل يحتاج إلى معالجة في إدخاله في الرِّجْل؛ لأن الإنسان لو انتعل قائما والنَّعل يحتاج إلى معالجة فربما يسقط إذا رفع رجله ليصلح النَّعل، أما النِّعال المعروفة الآن فلا بأس أن ينتعل الإنسان وهو قائم ولا يدخل ذلك في النهي؛ لأن نعالنا الموجودة يسهل خلعها ولبسها من غير حاجة إلى الجلوس. ولا فرق بين الرجل والمرأة في الحكم؛ لأن الأحكام الشرعية لا تفرق بين الرجل والمرأة إلا ما دلَّ الدليل على التخصيص. وأما تخصيص الحديث هنا بالرَّجُل؛ فلأن الرجال هم أكثر خروجا وبروزا من المرأة فلذلك خصهم بالذكر.

  • كراهة لبس النعل حال القيام، واستحباب القعود حين الانتعال، وذلك إذا كان يحتاج إلى الاستعانة بيده في لبسه، فإذا لم يحتج للاستعانة بيده فلا كراهة.
  • اهتمام الإسلام بالآداب حتى في كيفية لبس النعل، ليبدو المسلم على أحسن حال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید