حدیث

ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن بُريدة رضي الله عنه : أن رجُلاً نَشَدَ في المسجد فقال: من دَعَا إلى الجَمَل الأحمر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا وجَدْتَ؛ إنما بُنِيَتِ المساجد لما بُنِيَتْ له».

ترجمہ

بُریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“۔

تشریح

بُریدۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے؟ یعنی وہ اپنے گمشدہ سُرخ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا کہ جو اسے جانتا ہو وہ اسے اس کے بارے میں بتلائے۔ ”تجھے وہ نہ ملے“ یعنی اللہ کرے کہ تجھے تیرا اونٹ نہ ملے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔ ”کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے بدعا کی وجہ بھی بتلائی کہ اللہ تعالیٰ کے گھر دنیا کے امور یعنی گمشدہ چیزوں اور خرید و فروخت کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ یہ نماز ، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور آخرت کی طلب میں بنائے گئے ہیں۔

تشریح: العربية

يخبر بريدة رضي الله عنه في هذا الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلًا يقول : "من دَعا إلى الجمل الأحمر" ينشد جمله الأحمر وأن من عرفه فليخبر عنه. "لا وجَدْتَ" أي: لا رده الله عليك كما في الرواية الأخرى. "إنما بُنِيَتِ المساجد لما بُنِيَتْ له" ثم بين له سبب الدعاء عليه، وهو : أن بيوت الله تعالى لم تبن لأمور الدنيا من إنشاد الضوال والبيع والشراء، بل بنيت للصلاة وذكر الله عز وجل وطلب الآخرة.

  • النهي عن إنشاد الضالة في المسجد.
  • إنكار المنكر في المسجد.
  • الدعاء على من أنْشَدَ ضَالته في المسجد.
  • يستحب الإكثار في المسجد من ذكر الله تعالى، والتسبيح، والتهليل، والتحميد، والتكبير وغيرها من الأذكار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید